عنوان: انتہائی ضعیف میاں بیوی کا رقم سودی بینک میں رکھوا کر اس پر نفع لینا(108725-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا نہایت ضعیف میاں بیوی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے بینک میں اپنی رقم فکس منافع یعنی سود پہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب: یاد رہے کہ سود کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں حرام قرار دیا گیا ہے، اور مسلمانوں کو سودی معاملات سے منع کیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی معاملہ کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے، چونکہ سودی بینک سے نفع کے نام پر متعین رقم لینا سود ہی ہے، اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے، البتہ اس سلسلے میں مستند مفتیان کرام کی زیرِ نگرانی چلنے والے مالیاتی اداروں اور غیر سودی بینکوں میں سرمایہ کاری کرنے کی گنجائش ہے۔

دلائل:




القرآن الکریم:(سورۃآل عمران:الآیۃ:130)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

القرآن الکریم:(سورۃالطلاق:الآیۃ:2،3)
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًاo

الصحیح لمسلم:(1219/3،کتاب المساقات،ط:داراحیاءالتراث)
"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 124

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.