عنوان: قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے "اعوذ باللہ" اور "بسم اللہ" پڑھنے کا حکم(108740-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! یہ فرمائیے گا کہ کیا قرآن مجید کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اعوذباللہ پڑھنا ضروری ہے یا بسم اللہ پڑھنا ہی کافی ہے؟

جواب: قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے "اعوذ باللہ" پڑھنا مسنون ہے اور قرآن کریم کے آداب میں سے ہے، اور اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کسی سورت سے شروع کرے، تو "اعوذ باللہ" پڑھنے کے ساتھ ساتھ "بسم اللہ" پڑھنا بھی مسنون ہے، البتہ دونوں صورتوں میں "اعوذ باللہ" اور "بسم اللہ" پڑھنا فرض یا واجب نہیں ہے، تاہم ان سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ شیطانی وساوس سے حفاظت ہوسکے اور قرآن کریم کی مکمل برکات اور رحمتوں سے مستفید ہوا جاسکے۔

دلائل:




تفسیرالقرطبی:(86/1،ط:دارالکتب المصریۃ)
فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم"۔۔۔ هذا الأمر على الندب في قول الجمهور في كل قراءة في غير الصلاة.

الشامیۃ:(489/1،ط:دارالفکر)
وظاهره أن الاستعاذة لم تشرع إلا عند قراءة القرآن أو في الصلاة ۔۔۔ قال في النهر: وأقول ليس ما في الذخيرة في المشروعية وعدمها بل في الاستنان وعدمه اه أي فتسن لقراءة القرآن فقط ۔۔۔الخ

المبسوط للسرخسی:(13/1،ط:دارالکتاب الاسلامی)
قوله تعالى: {فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم} [النحل: 98] ۔۔۔ وبظاهر الآية قال عطاء الاستعاذة تجب عند قراءة القرآن في الصلاة وغيرها وهو مخالف لإجماع السلف فقد كانوا مجمعين على أنه سنة ۔۔۔ الخ

الموسوعۃالفقہیۃالکویتیۃ:(191/16،ط:دارالسلاسل)
تستحب قراءة البسملة في أول كل سورة۔۔الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.