عنوان: مسلمان لڑکے کا عیسائی لڑکی سے فون پر نکاح کا حکم (8752-No)

سوال: السلام علیکم، ایک مسلمان لڑکا عیسائی لڑکی سے نکاح کرتا ہے، لڑکا اور لڑکی کے والدین دوسرے ملک میں موجود ہیں، لڑکا اور لڑکی ایک ہی ملک میں ملازمت کرتے ہیں۔
لڑکی کے والد صاحب بیمار ہیں اور لڑکی کی والدہ سے لڑکا خود بات کرتا ہے اور نکاح کی اجازت طلب کرتا ہے، لڑکی کی والدہ تحریری اجازت دیتی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک گواہ (ولی) مقرر کرتی ہیں، دوسرے ملک میں ہونے کی وجہ سے گواہ کو لڑکی اور اس کے والدین نہیں جانتے، لڑکا اپنے دو گواہ مقرر کرتا ہے اور لڑکی کا ایک گواہ جو کہ مقرر کیا گیا تھا، ان سب کو ایک جگہ دعوت دیتا ہے اور سب کی رضامندی سے ایک نکاح فارم پے نکاح کر لیتا ہے، اور لڑکی اس وقت اپنے گھر موجود ہوتی ہے، لڑکی کا گواہ لڑکی سے ٹیلی فون پر بات کرتا ہے اور اس کی رضا مندی سے نکاح کے فارم پے دستخط کرتا ہے اور حق مہر بی طے کرتا ہے، اس کے بعد لڑکا اور لڑکی میاں بیوی جیسی زندگی گزار رہے ہیں اور لڑکے نے مہر کی رقم بھی ادا کر دی تھی اورلڑکی نکاح کے ایک سال بعد کلمہ گو ہو چکی ہے۔
اس ساری تفصیل کے بعد معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ نکاح درست ہوا ہے؟ کیا یہ ازدواجی تعلق حلال ہے؟کیا لڑکی کے کلمہ گو ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کرنا چاہیے؟
براہ کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں۔
جزاك الله خير

جواب: واضح رہے کہ اہل کتاب سے نکاح کے بارے میں چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے:
۱۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اہل کتاب سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اہل کتاب سے کیا مراد ہے؟
امت کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں، جو کسی ایسی کتاب پر ایمان رکھتے ہوں، جس کا کتاب اللہ ہونا بتصدیق قرآن یقینی ہو، جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ اور وہ اس کو وحی الہی قرار دیتے ہوں۔
۲۔آج کل کے عیسائی اور یہودیوں کی بہت بڑی تعداد صرف نام کے یہودی یا عیسائی کہلاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ نہ ہی خدا کے وجود کے قائل اور نہ ہی کسی مذہب کے قائل ہیں، نہ تورات و انجیل کو خدا کی کتاب مانتے ہیں اور نہ موسی و عیسی علیھماالسلام کو اللہ کا نبی و پیغمبر تسلیم کرتے ہیں، لہذا اس قسم کے عیسائی و یہودی ملحد اور لادین ہیں،کسی طرح اہل کتاب میں شمار نہیں کیے جاسکتے ہیں۔
۳۔اگر کسی مسلمان نے اہلِ کتاب کی کسی عورت سے شادی کی ہو تو شرعی قانون کے لحاظ سے اولاد مسلمان شمار ہوگی، لیکن باہر کے ممالک میں عیسائی عورتوں سےجو شادیاں کی جاتی ہیں، ان سے پیدا ہونے والی اولاد اپنی ماں کا مذہب اختیار کرلیتی ہے اور بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے یہ جوڑا طے کرلیتا ہے کہ آدھی اولاد شوہر کی ہوگی اور آدھی بیوی کے مذہب پر ہوگی، اگر ایسی شرط لگائی جائے تو ایسی شادی کرنے والا مسلمان یہ شرط لگاتے ہی مرتد ہوجائے گا، کیونکہ اس نے اپنی اولاد کے کافر ہونے کو گوارا کرلیا اور اس پر رضامندی دے دی، اور کسی کے کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے، لہٰذا ایسی شرط لگاتے ہی یہ شخص ایمان سے خارج ہوکر مرتد ہوجائے گا۔
اس ساری تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ عیسائی اور یہودی عورت سےمسلمان کا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے، بشرطیکہ عورت واقعۃً عیسائی مذہب پر ہو اور شرعی طریقے پر دو گواہوں کے سامنے نکاح ہوا ہو اور نکاح کے شرعی طریقے پر صحیح ہونے کے لیے عاقدین (لڑکا اور لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں کے ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، اور یہ بھی شرط ہے کہ ایجاب و قبول کو دو ایسے گواہوں نے بلا کسی اشتباہ و تلبیس کے سنا ہو، جو خود مجلس عقد میں موجود ہوں، تاکہ وہ بوقت ضرورت گواہی دے سکیں۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر لڑکی واقعۃً عیسائی مذہب ہے، ملحد اور لادین نہیں ہے اور لڑکی کے مقرر کردہ وکیل نے مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا ہے، تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے، اور لڑکی کے مسلمان ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (45/3، ط: دار الفکر)
(وصح نکاح کتابیۃ) وان کرہ تنزیھا (مؤمنۃ بنبی) مرسل (مقرۃ بکتاب) منزل وان اعتقدوا المسیح الھا.

الھدایۃ: (330/2، ط: رحمانیہ)
(ویجوز تزوج الکتابیات) لقولہ تعالی والمحصنات من الذین اوتواالکتاب:ای العفائف.

البحر الرائق: (89/3، ط: دار الکتاب الاسلامی)
شرائط الإيجاب والقبول فمنها اتحاد المجلس إذا كان الشخصان حاضرين فلو اختلف المجلس لم ينعقد فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا.

الھندیة: (268/1، ط: دار الفکر)
رجل زوج ابنته من رجل في بيت وقوم في بيت آخر يسمعون ولم يشهدهم إن كان من هذا البيت إلى ذلك البيت كوة رأوا الأب منها تقبل شهادتهم وإن لم يروا الأب لا تقبل، كذا في الذخيرة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 585 Nov 11, 2021
musalman larke ka esai / cristian larki se / say phone per / par nikah ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.