عنوان: "عورت کى برکت یہ ہے کہ اس کى پہلى اولاد میں لڑکى پیدا ہو" اس حدیث کى تحقیق (108773-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ عورت کی برکت یہ ہے کہ اس سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو؟ (ابن عساکر، 225/45)

جواب: سوال میں مذکور حدیث چار صحابہ کرام: حضرت واثلۃ بن الأسقع، ام المؤمنین حضرت عائشۃ صدیقہ، حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کى گئى ہے، ذیل میں ان روایات کى تفصیل اور حکم بیان کیا جاتا ہے:

1-حضرت واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ عنہ کى روایت :

عن واثلة بن الأسقع، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من بركة المرأة تبكيرها بالأنثى، أما سمعت الله تعالى يقول: (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور)، فبدأ بالإناث قبل الذكور".

(مكارم الأخلاق للخرائطي:1/ 1469، رقم الحدیث: 184، باب العطف على البنات والإحسان إليهن وما في ذلك من الفضل، ط: مكتبة الرشد)


ترجمہ:
حضرت واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ عنہ سے مروى ہےکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کى پہلى اولاد میں بیٹی کى ولادت ہو، تو یہ اس عورت کے بابرکت ہونے کى علامت ہے، کیا تم نے اللہ تعالى کا یہ ارشاد نہیں سنا،(يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور) ترجمہ: اللہ تعالى جس کو چاہے لڑکیوں سے نواز دے اور جس کو چاہے لڑکوں سے نواز دے، تو اس آیت میں اللہ تعالى نے لڑکیوں کا ذکر لڑکوں سے پہلے کیا ہے۔

اس حدیث کو خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے "تاریخ بغداد " جلد16، صفحہ نمبر:600 میں اور ابن عساکر رحمہ اللہ نے "تاریخ دمشق " جلد 47 ، ص 225 میں اور ابو نعیم رحمہ اللہ نے "جزء حدیث الکدیمى وغیرہ" جلد 2، ص 33 میں خرائطى کے طریق سے انہى الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔


2-حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما:

وأخرج ابن مردويه عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من بركة المرأة ابتكارها بالأنثى لأن الله قال (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور).
(الدر المنثور: 13/ 176، سورة الشورى/ الآية: 49)


ترجمہ:
ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کى یہ روایت تخریج کى ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کى پہلى اولاد میں بیٹی کى ولادت ہو، تو یہ اس عورت کے بابرکت ہونے کى علامت ہے، کیونکہ اللہ تعالى نے ارشاد فرمایا ہے:(يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور) ترجمہ: اللہ تعالى جس کو چاہے لڑکیوں سے نواز دے اور جس کو چاہے لڑکوں سے نواز دے۔

3- حديث ام المؤمنين عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا:

قَالَ أَبُو الشَّيْخ حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن مُحَمَّد بْن أبي هُرَيْرَة حَدثنَا عبد الله ابْن عَبْد الوهَّاب حَدَّثَنَا سُلَيْمَان بْن سَلَمَة حَدَّثَنَا يُوسُف بْن عَطِيَّة حَدثنَا أَبُو معمر عباد ابْن عَبْد الصَّمد سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَمِعْتُ رَسُول الله يَقُولُ: مِنْ بَرَكَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا تَيْسِيرُ مَهْرِهَا وَأَنْ تُبَكِّرَ بِالْبَنَاتِ.

(اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 2/ 149)


ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتى ہیں: میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: شوہر کے لیے اس کى بیوى کا بابرکت ہونا دو چیزوں سے ہوتا ہے: اس کا حق مہر آسان ہو اور اس کى پہلى اولاد میں لڑکى پیدا ہو۔


4- حدیث على بن ابى طالب رضی اللہ عنہ:

وبإسناده (حَدثنا مُحمد بن مُحمد بن الأشعث، حَدَّثني موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن مُحمد، حَدَّثني أبي، عن أبيه، عن جَدِّه جعفر، عن أبيه، عن جَدِّه علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي، قال:) قال رسول الله صَلى الله عَليه وسلم: من يمن المرأة أن يكون بكرها جارية.
الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (9/ 448) ترجمة مُحمد بن مُحمد بن الأشعث


ترجمہ:
امام ابن عدى رحمہ اللہ نے "الکامل فى اسماء الرجال"میں محمد بن محمد بن الأشعث كى سند سے یہ روایت نقل کى ہے کہ حضرت على رضی اللہ عنہ سے مروى ہےکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کے بابرکت ہونے میں سے یہ بات ہے کہ اس کى پہلى اولاد لڑکى ہو۔

مذكوره بالا احاديث پر محدثین کا کلام:

1- حضرت واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کى یہ روایت ابن الجوزى رحمہ اللہ نے "الموضوعات" 2/ 276، میں نقل کى ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے، اس میں کذاب (جھوٹے راویوں) کى جماعت اکٹھى ہے، تاہم امام سیوطى رحمہ اللہ نے ابن جوزى رحمہ اللہ کے اس حکم سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس روایت کو ابن مردویہ نے اپنى تفسیر میں روایت کیا ہے، مزید یہ کہ اس روایت کا ایک شاہد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھى ہے، لہذا اس حدیث کو موضوع (من گھڑت) قرار دینا درست نہیں، لیکن علامہ ابن عراق کنانى رحمہ اللہ نے اس حدیث کو"تنزیہ الشریعہ" جلد 2، ص 202 میں نقل کرکے فرمایا ہے: اس حدیث کى سند میں حکیم بن حزام راوى ہیں، اور ان کو علامہ کنانى نے "تنزیہ الشریعہ" جلد 1، 55، (53) جھوٹے اور من گھڑت روایات بیان کرنے والے راویوں کى فہرست میں شمار کیا ہے. اور علامہ سیوطى کا حدیث واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کے شاہد کے طور پر حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا پیش کرنا بھى کافى نہیں ہے، کیونکہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں عباد بن عبد الصمد راوى موجود ہیں، وہ بھى من گھڑت روایات بیان کرنے والے راویوں کى فہرست میں شامل ہیں۔

2- حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کو امام سیوطى رحمہ اللہ نے اپنى تفسیر "الدر المنثور" ابن مردویہ کے حوالے سے بلا سند نقل فرمائى ہے، لہذا اس حدیث کى اسنادى حیثیت کو واضح کرنا ممکن نہیں۔

3- حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ابن عراق کنانى رحمہ اللہ کا کلام ، حدیث واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ پر کلام کے ضمن میں آچکا ہے، اس حدیث کے روایوں میں "عباد بن عبد الصمد" جو من گھڑت روایت کرنے والے راویوں کى فہرست میں شامل ہیں۔

4- حدیث على بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کو ابن عدى رحمہ اللہ نے "الکامل فى اسماء الرجال" میں "محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي أبو الحسن " سے روایت کى ہے، ان کے متعلق انہى کا کلام ہے کہ ان سے انہوں نے ایک ہزار کے قریب روایات نقل کى ہیں، ان میں سے اکثر روایات منکر ہیں، علامہ ذہبى رحمہ اللہ نے "ميزان الاعتدال "جلد 6، ص 322 میں "محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي أبو الحسن " کے ترجمے (تعارف) میں فرمایا ہے: "وساق له ابن عدي جملة موضوعات" ابن عدى نے ان سے ان کى "موضوع" (من گھڑت) روایات بیان کى ہیں، لہذا یہ روایت بھى انہیں موضوع (من گھڑت) روایات میں سے ہے۔

خلاصہ حکم:

مذکورہ بالا روایت کو محدثین نے موضوع (من گھڑت) روایات کى کتابوں میں نقل فرمایا ہے، اور بعض محدثین نے صراحت کے ساتھ اس روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے، جبکہ بعض نے صراحت کے ساتھ اگرچہ موضوع (من گھڑت) کا حکم نہیں لگایا، لیکن اس روایت میں "کذاب "اور "وضاع" راویوں کى نشاندہى فرمائى ہے، جس سےکم از کم یہ روایت شدید ضعیف کہلائے گى، لہذا احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس روایت کو بیان نہ کیا جائے۔

دلائل:


تخریج الحدیث وکلام المحدثین:

مكارم الأخلاق للخرائطي:(رقم الحدیث:184،باب العطف على البنات والإحسان إليهن وما في ذلك من الفضل،1469/1،ط:مكتبةالرشد)
1-حضرت واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ عنہ:

184 حدثنا محمد بن جابر الضرير، ثنا مسلم بن إبراهيم العبدي، ثنا حكيم بن حزام، عن العلاء بن كثير، عن مكحول، عن واثلة بن الأسقع، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من بركة المرأة تبكيرها بالأنثى، أما سمعت الله تعالى يقول: (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور)، فبدأ بالإناث قبل الذكور".

تاريخ بغداد لمحمد بن خزيمةالبلخي:(600/16)
أخبرني الأزهري قال حدثنا الحسن بن أحمد بن محمد المحمي النيسابوري قال حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه البخاري بها قال حدثنا محمد بن خزيمة البلخي قال حدثنا أبو موسى البغدادي قال حدثنا سلم بن إبراهيم قال حدثنا حكيم بن خذام الأزدي عن العلاء بن كثير الدمشقي عن مكحول عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من بركة المرأة بكورها بالأنثى ألم تسمع بقول الله عز وجل في حم (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور) فبدأ بالإناث قبل الذكور.

تاريخ دمشق لابن عساكر:(225/47)
أخبرنا أبو الحسن الفقيهان قالا أنا أبو الحسن أحمد بن عبد الواحد أنا جدي أبو بكر محمد أنا أبو بكر الخرائطي نا محمد بن جابر الضرير نا مسلم بن إبراهيم العبدي نا حكيم بن خدام عن العلاء بن كثير عن مكحول عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من بركة المرأة تبكيرها بالأنثى أما سمعت الله يقول يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور فبدأ بالإناث قبل الذكور


قال الدار قطني في "الأفراد" كما في "الأطراف":(302/2(5293) حديث: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من بركة المرأة بكورها بالأنثى ... الحديث.غريب من حديثه، عن أبيه، تفرد به سلم بن إبراهيم عن حكيم عنه، وإنما يعرف هذا من حديث العلاء بن كثير عن مكحول عن واثلة بن الأسقع.

وذكره ابن الجوزي في "الموضوعات" 2/ 276، باب بركة المرأة إذا بكرت بأنثى، وقال: هذا حديث موضوع على رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقد اتفق فيه جماعة كذابون. أما سلم فقال يحيى: هو كذاب. وأما حكيم فقال أبو حاتم الرازي: متروك الحديث. وأما العلاء بن كثير فقال أحمد ويحيى: ليس بشئ، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الاثبات.

وذكره السيوطي في "اللآلىء المصنوعة" 2/ 149، وذكر كلام ابن الجوزي وقال: (قلت) أَخْرَجَهُ ابْن مرْدَوَيْه فِي التَّفْسِير. وقَالَ أَبُو الشَّيْخ حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن مُحَمَّد بْن أبي هُرَيْرَة حَدثنَا عبد الله ابْن عَبْد الوهَّاب حَدَّثَنَا سُلَيْمَان بْن سَلَمَة حَدَّثَنَا يُوسُف بْن عَطِيَّة حَدثنَا أَبُو معمر عباد ابْن عَبْد الصَّمد سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَمِعْتُ رَسُول الله يَقُولُ: مِنْ بَرَكَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا تَيْسِيرُ مَهْرِهَا وَأَنْ تُبَكِّرَ بِالْبَنَاتِ.

وذكره الكناني في "تنزيه الشريعة" 2/ 202، (13) [حديث] إن من بركة المرأة تبكيرها بالأنثى ألم تسمع الله يقول في كتابه {يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور} فبدأ بالإناث (الخرائطي) في مكارم الأخلاق من حديث واثلة بن الأسقع وفيه حكيم بن حزام وعنه مسلم بن إبراهيم قال السيوطي وجاء من حديث عائشة من بركة المرأة على زوجها تيسير مهرها وأن تبكر بالبنات أخرجه أبو الشيخ إلا أنه من طريق عباد بن عبد الصمد.
وقال في "تنزيه الشريعة"1/ 55 (53): حكيم بن حزام قال الساجي يحدث بأحاديث بواطيل.
وقال في 1/ 70 (9): عباد بن عبد الصمد عن أنس بنسخة أكثرها موضوع قاله ابن حبان.

2- حدیث عائشۃ أم المؤمنین رضی اللّٰہ عنہا:

وقَالَ أَبُو الشَّيْخ حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن مُحَمَّد بْن أبي هُرَيْرَة حَدثنَا عبد الله ابْن عَبْد الوهَّاب حَدَّثَنَا سُلَيْمَان بْن سَلَمَة حَدَّثَنَا يُوسُف بْن عَطِيَّة حَدثنَا أَبُو معمر عباد ابْن عَبْد الصَّمد سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَمِعْتُ رَسُول الله يَقُولُ: مِنْ بَرَكَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا تَيْسِيرُ مَهْرِهَا وَأَنْ تُبَكِّرَ بِالْبَنَاتِ.
(اللآلىء المصنوعة: 2/ 149)

3- حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما:

وأخرج ابن مردويه عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من بركة المرأة ابتكارها بالأنثى لأن الله قال (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور).
الدر المنثور (13/ 176)

4-حديث علي بن أبي طالب رضي الله عنه:

15774 – وبإسناده (حَدثنا مُحمد بن مُحمد بن الأشعث، حَدَّثني موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن مُحمد، حَدَّثني أبي، عن أبيه، عن جَدِّه جعفر، عن أبيه، عن جَدِّه علي بن الحسين، عن أبيه، عن علي، قال:) قال رسول الله صَلى الله عَليه وسلم: من يمن المرأة أن يكون بكرها جارية.
(الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 9/ 448، ترجمة مُحمد بن مُحمد بن الأشعث)
قال الشيخ: وهذه النسخة كتبتها عنه وهي قريبة من ألف حديث، وكتبت عامتها عنه، وهذه الأحاديث وغيرها من المناكير في هذه النسخة، وفيها أخبار ربما يوافق متونها متون أهل الصدق، وكان متهما في هذه النسخة، ولم أجد له فيها أصلا، كان يخرج إلينا بخط طري وبكاغد جديد.

وقال الذهبي في "الميزان"6/ 322 في ترجمة محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي أبو الحسن:
نزيل مصر قال ابن عدي كتبت عنه بها حمله شدة تشيعه أن أخرج إلينا نسخة قريبا من ألف حديث عن موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن آبائه بخط طري عامتها مناكير فذكرنا ذلك للحسين بن علي الحسني العلوي شيخ أهل البيت بمصر فقال كان موسى هذا جاري بالمدينة أربعين سنة ما ذكر قط أن عنده رواية لا عن أبيه ولا عن غيره... وساق له ابن عدي جملة موضوعات. قال السهمي سألت الدارقطني عنه فقال آية من آيات الله وضع ذاك الكتاب يعني العلويات.

والله تعالى أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچى

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 276

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.