عنوان: اگر مرحوم کی قضاء شدہ نماز اور روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو ان کا فدیہ کس طرح ادا کیا جائے؟(108788-No)

سوال: السلام علیکم، میرے شوہر کا انتقال ہوئے ڈھائی سال ہو گئے ہیں، ایصالِ ثواب کے لئے ان کے پیچھے کوئی صدقہ یا خیرات کرتی ہوں، مجھے کسی نے کہا کہ آپ صدقہ اور خیرات کرنے کے بجائے ان کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر دیں، جبکہ مجھے معلوم ہی نہیں کہ ان کی کتنی نمازیں اور کتنے روزے قضا ہیں؟ مجھے شرعی رہنمائی چاہیے کہ میں کس طرح سے اندازہ کرو کہ کتنا فدیہ دینا ہوگا؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ اگر مرحوم کے ذمے کچھ قضا نمازیں اور روزے ہوں، اور مرنے سے قبل اس نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت بھی کی ہو، تو ورثاء کے لیے اس کی نمازوں اور روزے کا فدیہ کل ترکہ کے ایک تہائی سے ادا کرنا ضروری ہے، لیکن اگر ایک تہائی مال سے تمام نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا نہ ہو سکے، تو باقی ماندہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنا ورثاء کے ذمے لازم نہیں ہے، تاہم اگر ورثاء اپنی خوشی سے مرحوم کی بقیہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر دیں، تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا۔

اسی طرح اگر مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت ہی نہ کی ہو، تو اس صورت میں ورثاء کے ذمہ مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے، تاہم اگر ورثاء میں سے کوئی اپنی خوشی سے بطور تبرع ادا کرنا چاہے، تو ادا ہو جائے گا، اور امید ہے کہ مرحوم کو آخرت کی باز پرس سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

نیز مرحوم کی فوت شدہ نماز اور روزے کی تعداد معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم یہ ہے کہ خوب سوچ بچار کرکے ان نمازوں اور روزوں کا اندازہ لگایا جائے کہ مرحوم کی کتنی نمازیں اور روزے رہ گئے ہوں گے، اس اندازے میں اغلب (ذیادہ) کا اعتبار کیا جائے، مثلاً اگر شبہ ہو کہ ایک سال کی نماز اور روزے فوت ہوئے ہیں یا ڈیڑھ سال کے، تو ڈیڑھ سال کا اعتبار کرکے ان کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم:(البقرة:184)
فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضاً اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ.

الدرالمختار مع رد المحتار:(72/2،ط:دار الفکر)
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر).

ﺛﻢ اﻋﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﺇﺫا ﺃﻭﺻﻰ ﺑﻔﺪﻳﺔ اﻟﺼﻮﻡ ﻳﺤﻜﻢ ﺑﺎﻟﺠﻮاﺯ ﻗﻄﻌﺎ ﻷﻧﻪ ﻣﻨﺼﻮﺹ ﻋﻠﻴﻪ. ﻭﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻮﺹ ﻓﺘﻄﻮﻉ ﺑﻬﺎ اﻟﻮاﺭﺙ ﻓﻘﺪ ﻗﺎﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻓﻲ اﻟﺰﻳﺎﺩاﺕ ﺇﻧﻪ ﻳﺠﺰﻳﻪ ﺇﻥ ﺷﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ، ﻓﻌﻠﻖ اﻹﺟﺰاء ﺑﺎﻟﻤﺸﻴﺌﺔ ﻟﻌﺪﻡ اﻟﻨﺺ، ﻭﻛﺬا ﻋﻠﻘﻪ ﺑﺎﻟﻤﺸﻴﺌﺔ ﻓﻴﻤﺎ ﺇﺫا ﺃﻭﺻﻰ ﺑﻔﺪﻳﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﻷﻧﻬﻢ ﺃﻟﺤﻘﻮﻫﺎ ﺑﺎﻟﺼﻮﻡ اﺣﺘﻴﺎﻃﺎ ﻻﺣﺘﻤﺎﻝ ﻛﻮﻥ اﻟﻨﺺ ﻓﻴﻪ ﻣﻌﻠﻮﻻ ﺑﺎﻟﻌﺠﺰ ﻓﺘﺸﻤﻞ اﻟﻌﻠﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻌﻠﻮﻻ ﺗﻜﻮﻥ اﻟﻔﺪﻳﺔ ﺑﺮا ﻣﺒﺘﺪﺃ ﻳﺼﻠﺢ ﻣﺎﺣﻴﺎ ﻟﻠﺴﻴﺌﺎﺕ ﻓﻜﺎﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﺷﺒﻬﺔ ﻛﻤﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻮﺹ ﺑﻔﺪﻳﺔ اﻟﺼﻮﻡ ﻓﻠﺬا ﺟﺰﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﺎﻷﻭﻝ ﻭﻟﻢ ﻳﺠﺰﻡ ﺑﺎﻷﺧﻴﺮﻳﻦ، ﻓﻌﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻮﺹ ﺑﻔﺪﻳﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﺎﻟﺸﺒﻬﺔ ﺃﻗﻮﻯ.
ﻭاﻋﻠﻢ ﺃﻳﻀﺎ ﺃﻥ اﻟﻤﺬﻛﻮﺭ ﻓﻴﻤﺎ ﺭﺃﻳﺘﻪ ﻣﻦ ﻛﺘﺐ ﻋﻠﻤﺎﺋﻨﺎ ﻓﺮﻭﻋﺎ ﻭﺃﺻﻮﻻ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻮﺹ ﺑﻔﺪﻳﺔ اﻟﺼﻮﻡ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﺘﺒﺮﻉ ﻋﻨﻪ ﻭﻟﻴﻪ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com