عنوان: قریبی مسجد کے بجائے اپنے آفس میں باجماعت نماز پڑھنا کیسا ہے؟(108790-No)

سوال: میرے آفس کے بالکل سامنے ایک مسجد ہے، جس میں ظہر کی جماعت 1:30 ہوتی ہے، ہم آفس کے کچھ لوگ آفس میں ہی اذان دے كر 1:00 بجے اس جماعت سے پہلے اپنی جماعت کروا کر نماز پڑھ لیتے ہیں، کیا ایسا كرنا ٹھیک ہے؟

جواب: اگر مسجد قریب ہو، تو مسجد جاکر ہی جماعت سے نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں جماعت کے ثواب ساتھ ساتھ مسجد کا ثواب بھی ملتا ہے۔

البتہ اگر آفس کے منتظمین نماز باجماعت کے لئے مسجد نہ جانے دیتے ہوں، تو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد آفس ہی میں جماعت سے نماز ادا کرسکتے ہیں، تاہم اس صورت میں نمازیوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الصحیح لمسلم:(462/1،رقم الحدیث:665،ط:دار احیاء التراث العربی)
وعن جابر قال: خلت البقاع حول المسجد فأراد بنو سلمة أن ينتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال لهم: «بلغني أنكم تريدون أن تنتقلوا قرب المسجد» . قالوا: نعم يا رسول الله قد أردنا ذلك. فقال: «يا بني سلمة دياركم تكتب آثاركم دياركم تكتب آثاركم».

سنن ابن ماجۃ:(453/1،رقم الحدیث:1413،ط:دار احیاء الکتب العربیۃ)
عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة الرجل في بيته بصلاة، وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة، وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمس مائة صلاة، وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة، وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة، وصلاة في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com