عنوان: تین بھائی اور چار بہنوں میں دس لاکھ کی تقسیمِ میراث(108814-No)

سوال: مفتی صاحب ! چار بہنوں اور تین بھائیوں کے درمیان دس لاکھ میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو دس (10) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے تین بھائیوں میں سے ہر ایک دو (2)، اور چار بہنوں میں سے ہر ایک کو ایک (1) حصہ ملے گا۔

اس تقسیم کے اعتبار سے دس لاکھ (1000000) میں سے ہر ایک بھائی کو دو لاکھ (200000) اور ہر ایک بہن کو ایک لاکھ (100000) روپے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:(سورۃ النساء،آیت نمبر:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ...الخ الاٰیۃ

القرآن الکریم:(النساء، آیت نمبر:176)
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com