عنوان: اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالٰی پر چھوڑ دینے کا نام" توکل "ہے(108821-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! مجھے اپنی پسندیدہ چیز حاصل کرنے کے لیے دعا بتا دیں۔ (میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں شروع سے سب سے اوپر مرتبے پر رہتی ہوں، پھر بالکل آخر میں جب اس چیز اور محنت کا انعام ملنے والا ہوتا ہے، تو خود ہی کوئی خرابی ہو جاتی ہے اور خرابی ایسی ہوتی ہے کہ جہاں میں پہلے نمبر پر ہوتی ہوں، وہاں میری کوئی پوزیشن باقی نہیں رہتی، جیسے اگر پانچ سال کی محنت دیکھی جائے گی تو پورے چار سال میں پہلی پوزیشن پر ہوں، پھر اساتذہ سے نمبر میں ایسی خرابی ہوئی کہ میں بالکل چوتھے نمبر پر آگئی، یعنی کوئی پوزیشن باقی نہیں رہی، یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا، تقریباً ایسا چوتھی بار ہو رہا ہے۔

جواب: یاد رہے کہ دنیا میں سب کچھ انسان کی خواہش اور مرضی کے مطابق نہیں ہوتا، بلکہ بہت سی مرتبہ تو انسان کسی چیز کو اپنے لئے اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ چیز انسان کے لئے مفید نہیں ہوتی، جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔
(سورۃ البقرة، رقم الآیۃ:216)

لہذا آپ کو چاہئے کہ جب کسی دنیاوی کام کا آغاز کرنا ہو، تو پہلے اس فن کے ماہرین سے مشورہ کرلیں، اور اگر مشورہ سے وہ چیز آپ کو مفید معلوم ہو، تو اس سلسلے میں استخارہ کرکے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا مانگیں، (استخارے کا مسنون طریقہ دارالافتاء الاخلاص کی ویب سائٹ پر ملاحظہ فرمائیں : https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=2410)
پھر جب اس کام کے کرنے کا عزم اور پختہ ارادہ کرلیں، تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کام کو مکمل کوشش، محنت اور لگن سے انجام دیں اور نتیجہ اللہ تعالٰی پر چھوڑ دیں، یہی ایک مومن کی شان ہےکہ اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالٰی پر چھوڑ دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ثمرہ ملتا ہے، اس پر راضی ہو جاتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ میرے لئے دنیا و آخرت کے حق میں اسی چیز میں خیر ہے، مومن کی اسی صفت کا نام "توکل" اور "رضا بالقضاء" (خدا تعالی کے مقرر کردہ فیصلے پر راضی رہنا ) ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورۃ البقرۃ، الایۃ: 216)
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ؕ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo

القرآن الکریم: (سورۃ آل عمران، الایۃ: 159)
وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَo

سنن الترمذي: (604/1، ط: دار الغرب الاسلامی)
عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري، أو قال: في عاجل أمري وآجله، فيسره لي، ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري، أو قال: في عاجل أمري وآجله، فاصرفه عني، واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم أرضني به، قال: ويسمي حاجته.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 393
asbab / asbaab ikhtiar karne ke / kay bad natija Allah tala per / par chordene ka nam / naam "tawakul / tawakal" he / hay

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.