عنوان: بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان بیس مکانوں کی تقسیم(108834-No)

سوال: ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، مرحوم نے وراثت میں بیس گھر چھوڑے ہیں، براہ کرم ورثاء میں شرعی تقسیم فرمادیں۔

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو چونسٹھ (64) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو آٹھ (8)، تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے ملیں گے۔

اس تقسیم کے اعتبار سے مرحوم کے تمام متروکہ مکانوں میں بیوہ کا % 12.5 فیصد، ہر ایک بیٹے کا % 21.875 فیصد اور ہر ایک بیٹی کا % 10.93 فیصد حصہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:(سورۃ النساء،آیت نمبر:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ...الخ الاٰیۃ

وفی الاٰیۃ الاخرٰی:(سورۃ النساء،آیت نمبر:12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ... الخ الاٰیۃ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com