عنوان: بیوہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان ایک ایکڑ زمین کی تقسیم(108838-No)

سوال: السلام علیکم، ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک آ دمی کا انتقال ہوگیا ہے، ایک ایکڑ زمین ہے، چار بیٹے، ایک بیٹی اور بیوی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ زمین بیٹوں کے حصے میں کتنی آ ئے گی، بیٹی کو کتنی ملے گی اور بیوی کو کتنی ملے گی؟ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو بہتر (72) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو نو (9)، چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) اور بیٹی کو سات (7) حصے ملیں گے۔

اس تقسیم کے اعتبار سے ایک ایکڑ زمین میں سے
بیوہ کو % 12.5 فیصد، ہر ایک بیٹے کو % 19.44 فیصد اور بیٹی کو % 9.72 فیصد ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:(سورۃ النساء،آیت نمبر:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ...الخ الاٰیۃ

وفی الاٰیۃ الاخرٰی:(سورۃ النساء،آیت نمبر:12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ... الخ الاٰیۃ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com