عنوان: کمپنی کیلئے خریداری کرنے کی وجہ سے ملازم کو ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا شرعی حکم(108846-No)

سوال: میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، ملازمت کچھ اس طرح ہے کہ بازار سے سامان خریدنا پڑتا ہے، جس دوکان سے سامان خریدتا ہوں یا پھر جس دوکان سے میں کمپنی کا کام کرواتا ہوں، تو وہ دوکاندار مجھے ڈسکاؤنٹ دیتا ہے، مثال کے طور پر ایک سامان یا ایک کام جس کا ریٹ مارکیٹ میں بھی اور اس دوکان پر بھی 150 ریال ہے، تو وہ دوکان دار مجھے 150 کی انوائس یا بل دیتا ہے اور مجھے ہر بار پرمننٹ کسٹمر ہونے کی وجہ سے50 ریال دیتا ہے، جس کو یہاں ڈسکاؤنٹ کہا جاتا ہے، اور بازار کی دوسری دوکانوں کی بنسبت وہ کام بھی اچھے سے کرکے دیتا ہے، میں یہ 150 ریال کی انوائس یا بل کمپنی میں جمع کرواتا ہوں، اور جو 50 ریال ڈسکاؤنٹ کی صورت میں مجھے دوکاندار نے دیے ہوتے ہیں، وہ اپنے پاس رکھتا ہوں اور اپنی ضرورت کی چیزوں پر خرچ کرتا ہوں۔ کیا یہ 50 ریال ڈسکاؤنٹ کی صورت میں حلال ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں یہ شخص چونکہ کمپنی کا ملازم ہے٬ اور کمپنی کیلئے ہی خریداری کرنے پر اسے ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے٬ اس لئے وہ ڈسکاؤنٹ بھی کمپنی کا حق ہے٬ لہذا ملازم کیلئے کمپنی کی اجازت کے بغیر اسے اپنے پاس رکھنا اور استعمال میں لانا شرعا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورۃ النساء، الایۃ: 29)
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ....الخ

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 6989)
عن ابي حميد الساعدي، قال: استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا على صدقات بني سليم يدعى ابن اللتبية، فلما جاء حاسبه، قال: هذا مالكم وهذا هدية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" فهلا جلست في بيت ابيك وامك حتى تاتيك هديتك إن كنت صادقا، ثم خطبنا، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد، فإني استعمل الرجل منكم على العمل مما ولاني الله، فياتي فيقول: هذا مالكم وهذا هدية اهديت لي، افلا جلس في بيت ابيه وامه حتى تاتيه هديته، والله لا ياخذ احد منكم شيئا بغير حقه إلا لقي الله يحمله يوم القيامة....الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 142
company ke / kay liye kharidare karne ki waja se / say mulazim ko milne wale discount ka sharae / shari hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.