resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: چہرے کے پردے سے متعلق حدیث

(885-No)

سوال: جس حدیث سے چہرہ کا پردہ ثابت ہے، وہ حدیث حوالہ سمیت بتادیں۔

جواب: واضح رہے کہ عورت کے لیے سر سے لے کر پاؤں تک تمام اعضاء کا غیر محرم سے پردہ ہے، اب چونکہ عام طور پر باعث ِکشش اعضاء میں سب سے نمایاں عضو چہرہ ہے تو اس کو غیر محرم کی نظر پڑنے سے چھپانا نہایت ضروری ہے۔ مذکورہ حکم متعدد آیات اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ چونکہ سوال میں صرف حدیث پوچھی گئی ہے تو ذیل میں مذکورہ مضمون پر دلالت کرنے والی تین واضح روایات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
(1) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مختلف قافلوں کی صورت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبیﷺ کے ہمراہ روانہ ہو رہے تھے، اور ہم خواتین احرام کی حالت میں تھیں(اب چونکہ احرام کی حالت میں چہرے کو ڈھانپنا ممنوع ہے) ایسے موقع پر کوئی نامحرم ہمارے سامنے سے گزرتا تو ہم (چہرہ چھپانے کی غرض سے)اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتے تھے، اور ان کے گزر جانے کے بعد (احرام کی حالت میں ہونے کی وجہ سے) چہرہ کھول دیتے تھے۔
(2)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نےفرمایا: حالت ِاحرام میں عورت اپنے چہرے پر نقاب نہ ڈالے، اور نہ ہی ہاتھوں میں دستانےپہنے۔(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں چہرہ پر کپڑا لگنے سے بچانا ضروری ہے، تاہم عام حالات کی طرح نامحرموں سے پردہ حالت احرام میں بھی لازم ہے)
(3) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ "افک" سے متعلق مفصّل روایت میں فرماتی ہیں:
"میں اپنی جگہ پر بیٹھی تھی کچھ دیر بعد میری آنکھ لگ گئی اور میں سوگئی، صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے پیچھے آرہے تھے (وہ لشکر سے انجانے میں گرنے والی چیزیں جمع کرنے مامور تھے)۔ جب میری طرف سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا سایہ دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر پہچان گئے ، اور انا للہ پڑھنا شروع کیا، اور ان کی آواز سے میں جاگ اٹھی، اور فوراً میں نے چادر سے اپنا چہرہ چھپالیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل :

سنن أبي داؤد، لسلیمان بن أشعث السجستاني:(202 - 275 ه)، باب فی المحرم یظلل ، 234/3، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]، دار الرسالة العلمية:
عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: كان ‌الركبان يمرون بنا، ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات، فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها فإذا جاوزونا كشفناه.

سنن أبي داؤد، لسلیمان بن أشعث السجستاني(202 - 275 ه)، باب ما یلبس المحرم، 229/3، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]، دار الرسالة العلمية:
عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم: "المحرمة لا تنتقب ولا تلبس ‌القفازين".

صحیح البخاري، لأبي عبدالله محمد بن إسماعیل البخاري الجعفي، باب حدیث الإفك، 1517/4، رقم الحدیث:3910، المحقق: د. مصطفى ديب البغا، الناشر: (دار ابن كثير، دار اليمامة) – دمشق:
فبينا أنا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت، وكان صفوان بن المعطل السلمي، ثم الذكواني من وراء الجيش، فأصبح عند منزلي، فرأى سواد إنسان نائم، فعرفني حين رآني، -وكان رآني قبل الحجاب-، فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني، ‌فخمرت وجهي بجلبابي۔۔۔

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی

chehray/chehre kay/ke parde/parday se/say mutaliq/mutalliq hadeeth/hadith/hadees, hadeeth/hadith/hadees regarding the covering of the face (for women)

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees