عنوان: انٹرنیٹ کنکشن اور ٹی وی کیبل سروس کا کاروبار کرنا(8891-No)

سوال: السلام علیکم ،مفتی صاحب! کیا گھروں میں انٹرنیٹ نیٹ ورک اور کیبل سروس دینا اور اس کا کاروبار کرنا جائز ہے؟ رہنمائی فرمادیں جَزَاکَ اللَّهُ

جواب: انٹرنیٹ کیبل کا کاروبار کرنے کی گنجائش ہے، اس لیے کہ انٹرنیٹ اصلاً صحیح مقاصد میں استعمال ہونے کے لیے بنایا گیا ہے، لہذا کنکشن لے کر جو غلط استعمال کرے گا، اس کے گناہ کا ذمہ دار استعمال کرنے والا خود ہی ہوگا، ہاں ! جس شخص کے بارے میں پختہ یقین ہو کہ وہ غلط استعمال کرے گا، ایسے شخص کو کنکشن دینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ ٹی وی پر آنے والے اکثر پروگرام فحاشی، عریانیت اور بے حیائی پر مشتمل ہوتے ہیں، اور اکثر لوگ ٹی وی کیبل ان پروگراموں کو دیکھنے کے لیے ہی لیتے ہیں، چونکہ ٹی وی کیبل سپلائی کرنے والا اس گناہ کے کام میں معاون بنتا ہے، اس لیےٹی وی کیبل کا کاروبار کرنا یا اس کی سپلائی کرنا ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایۃ: 2)
ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان....الخ

رد المحتار: (268/4، ط: دار الفکر)
"وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اه قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه".

البحر الرائق: (155/5، ط: دار الکتاب الاسلامی)
"وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه، وما لا فلا، ولذا قال الشارح: إنه لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة".

فقہ البیوع: (314/1، ط: مکتبہ معارف القرآن)
واما التلفزیون، فمن العلماء المعاصرین من یقول بان الصور التی تظھر علی شاشتہ داخلۃ فی الصور المنھی عنھا، فھو داخل عندھم فی القسم الاول. وقیاسُ قولھم ان یکون بیعہ فی حکم آلات الملاھی، وقد فصلنا القولُ فی ذلک، ومنھم من یقول: ان الصور التی تظھر علی شاشتہ لیست من الصور الممنوعۃ، لانھا لا تستقر علی شئ، فھی بالعکس اشبہُ منھا بالصور المستقرۃ علی الثوب او القرطاس، وھو القول الراجح عندنا، فمن ھذہ الجھۃ ھو داخل فی القسم الثالث، فبیعہ صحیح منعقد، ولکن معظم استعمال التلفزیون فی عصرنا فی برامج لا تخلو من محظور شرعی، وعامۃُ المشترین یشترونہ لھذہ الاغراض المحظورۃ من مشاھدۃ الافلام والبرامج الممنوعۃ، وان کان ھناک من لا یقصد بہ ذلک. فبما ان استعمالہ فی مباح ممکن، فلا نحکم بالکراھۃ التحریمیۃ فی بیعہ مطلقاً، الا اذا تعین بیعہ لمحظور، ولکن نظراً الی معظم استعمالہ لا یخلو من کراھۃ تنزیھیۃ. وعلی ھذا، فینبغی ان یتحوط المسلم فی اتخاذ تجارتہ مھنۃً لہ فی الحالۃ الراھنۃ، الا اذاھیا اللہ سبحانہ جواً یتمحّض او یکثر فیہ استعمالہ المباح، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 226
internet connection or tv cable service ka karobar / service karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.