resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جس شخص نے فرض نماز بغیر جماعت کے ادا کرلی ہو، کیا اس شخص کو اسی نماز کی ادائیگی کے لیے جماعت کا امام بنایا جاسکتا ہے؟(8930-No)

سوال: اگر کوئی فرض نماز اکیلے میں پڑھ چکا ہو، پھر اس کے بعد نمازی آجائیں، تو جس نے اکیلے نماز پڑھی تھی، تو وہ وہی نماز اب ان کو جماعت سے پڑھا سکتا ہے؟

جواب: ذکر کردہ صورت میں مذکورہ شخص کو (جس نے اپنی فرض نماز ادا کر لی ہے) امام بنانا درست نہیں ہے، اس لئے کہ جب مذکورہ شخص نے ایک مرتبہ فرض نماز پڑھ لی ہے، تو اس کے ذمہ سے فرض ادا ہوگیا ہے، اب اگر یہ شخص دوبارہ اسی فرض نماز کو جماعت میں شامل ہوکر ادا کرے گا، تو اس کی یہ نماز نفل شمار ہوگی، اور یہ قاعدہ ہے کہ فرض نماز پڑھنے والوں کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں ہوتی ہے، لہذا مذکورہ شخص کو ادا شدہ فرض نماز کا امام بنانا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (579/1، ط: دار الفکر)
ولا مفترض بمتنفل وبمفترض فرض آخر؛ لأن اتحاد الصلاتین شرط عندنا، وصح أن معاذاً کان یصلي مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم نفلاً وبقومہ فرضاً۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

jis shakhs ne / nay farz namaz baghair jamat ke / kay ada karli ho,kia us shakhs ko isi namaz kia adaige ke / kay liye jamat ka imam banaya jasakta he / hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)