عنوان: کیمرہ مین (Camera Man) کی کمائی کا حکم(108951-No)

سوال: کیا کیمرہ مین کی کمائی حلال ہے؟

جواب:
احادیثِ مبارکہ میں جان دار کی تصویر بنانے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔
چنانچہ کسی پائدار چیز پر جاندار کی تصویر یا نقش بنانا اور بنوانا ناجائز اور حرام ہے، اس لئے جس کیمرہ مین یا فوٹو گرافر کے کام میں جاندار کی ایسی تصویر بنائی جاتی ہو، تو ایسے کام کو ذریعہ معاش اور پیشہ بنانا بھی جائز نہیں ہے، اور ایسی تصاویر بنانے کے عوض حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال نہیں ہے۔
البتہ ضرورتِ شدیدہ کے موقع پر مثلًا: پاسپورٹ یا شناختی کارڈ وغیرہ کی غرض سے تصویر بنوانے کی اجازت دی گئی ہے، اس لئے مجبوری میں جاندار کی تصویر بنانے اور بنوانے والے پر گناہ نہیں ہوگا، لیکن اس کا پیشہ بنانا پھر بھی درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کا جب تک کسی پائیدار چیز پر عکس یا پرنٹ وغیرہ نہ لیا جائے، تو ایسی تصویر بہت سے علماء کرام کے نزدیک حرام تصویر کے حکم میں داخل نہیں ہے، اس اعتبار سے اس کام کے عوض حاصل ہونے والی کمائی بھی حرام نہیں کہلائے گی، بشرطیکہ اس میں خواتین یا حرام مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز نہ ہوں، اس کے باوجود بلا ضرورت ڈیجیٹل تصاویر بنانے اور اس کا پیشہ اختیار کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاري: (باب عذاب المصورین، رقم الحدیث: 5950، ط: دار الفکر)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: سمعت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن أشد الناس عذابًا عند اللّٰہ یوم القیامۃ المصورون

صحیح البخاري: (باب ھل یرجع إذا راٰی منکرًا في الدعوۃ؟ رقم الحدیث: 5181، ط: دار الفکر)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا زوج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہا أخبرتہ: أنہا اشترت نُمرقۃً فیہا تصاویر، فلما رآہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قام علی الباب أَذنبتُ؟ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما بالُ ہٰذہ النمرُقۃ؟ قالت: فقلت: اشتریتہا لک لتقعدُ علیہا وتوسَّدہا، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن أصحاب ہٰذہ الصور یُعذبون یوم القیامۃ، ویقال لہم: أحیوا ما خلقتم، وقال: إن البیت الذي فیہ الصورُ لا تدخلہ الملائکۃ۔

العناية شرح الهداية: (98/9، ط: دار الفکر)
(و لايجوز الاستئجار على سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية و المعصية لاتستحق بالعقد) فإنه لو استحقت به لكان وجوب ما يستحق المرء به عقابًا مضافًا إلى الشرع و هو باطل.‘‘

غمز عیون البصائر: (274/1، ط: دار الكتب العلمية)
الضرورات تبيح المحظورات، و من ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، و إساغة اللقمة بالخمر ...الخ.‘‘

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 231
camera man ki kamai / income ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.