عنوان: ماں، باپ اور غیر شادی شدہ بہن کو خرچہ دینے اور ضروریات سے زائد مال جمع (save) کرنے کا حکم(108963-No)

سوال: السلام علیکم، میرے والدین ضعیف ہیں، میرے اور چھوٹے بھائی کے علاوہ ان کا ذریعہ معاش 8500 روپے پینشن ہے، ایک چھوٹی بہن ہے، بھائی کی تنخواہ بھی کم ہے اور اس کے 3 چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میں اپنی ہر مہینے کی تنخواہ سے ان کو پیسے دیتا ہوں اور اس کے علاوہ والدین، بھائی، چھوٹی بہن، بھتیجے اور بھتیجیوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہوں، الحمدللہ ! میری تنخواہ اچھی ہے۔ مسئلہ یہ ہیکہ اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ پیسے کی قدر کرو اور پیسے بچاؤ، کیونکہ آپ کے بچے نہیں ہیں تو بڑھاپا کیسے گزرے گا، جس نے پیسے کی قدر نہیں کی، وہ خوار ہی ہوتا ہے۔ جبکہ میرا ایمان ہے کہ جو اللہ رب العزت آج دے رہا ہے، وہ کل بھی دے گا، انشاءاللہ لیکن کچھ پریشانی ہوتی ہے، جب اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھتا ہوں، جو اپنے وقت میں بہن بھائیوں کا خیال کرتے تھے، آج ان کو کوئی پوچھتا نہیں اور ان کے معاشی حالات بھی خراب ہیں، مزید یہ کہ میری اہلیہ بھی منع کرتی ہے کہ گھر والوں کو ضرورت نہیں ہے، ان کی مدد نہ کیا کرو، کوئی کسی کے کام نہیں آتا، جبکہ بیگم کو ہر چیز جو اس کو چاہئے ہوتی ہے، میں مہیا کر دیتا ہوں۔ مجھے قرآن و سنت سے سمجھا دیں کہ میرا یہ عمل صحیح ہے یا غلط اور مجھے یہ مدد جاری رکھنی چاہئے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جائز طریقے سے کمائے ہوئے مال کے ضروری حقوق ادا کرنے کے بعد زائد رقم کو جمع (save) کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ ضروری حقوق ادا کیے بغیر جمع کرتے رہنا شریعت کی نگاہ میں درست نہیں ہے، ضروری حقوق سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں، حقوق اللہ سے مراد زکوۃ، صدقات واجبہ، فطرانہ وغیرہ ہیں، جب کہ حقوق العباد سے بیوی، بچوں، ضرورت مند ماں باپ اور رشتے داروں پر خرچ کرنا مراد ہے۔

لہٰذا آپ کے والدین اگر ضرورت مند ہیں، اور ان کی ضروریات ان کی ذاتی آمدنی یا مال سے پوری نہیں ہوتیں، تو اعتدال کے ساتھ ان کی ضروریات اور نان و نفقہ کاخرچہ آپ پر واجب ہے، اسی طرح بہن بھی اگرغیر شادی شدہ اورضرورت مند ہے، تو اس کی ضروریات اور نان ونفقہ کا خرچہ بھی آپ پرلازم ہے۔
اور اگر والدین اور چھوٹی بہن خود مالدار ہیں، تو ان کا خرچہ آپ کے ذمہ واجب نہیں ہے، اسی طرح آپ کے بھائی چونکہ خود برسرِ روزگار ہیں، اس لیے ان کا یا ان کی اولاد کا خرچہ بھی آپ پر واجب نہیں ہے، تاہم ایسی صورت میں بھی بیوی بچوں کی ضروریات سے زائد مال میں سے ان پر خرچ کرنا بھی ثواب اور برکت کا ذریعہ ہے۔

جہاں تک مال جمع کرنے سے متعلق لوگوں کی گفتگو اور مشوروں کا تعلق ہے، تو واضح رہے کہ اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں خرچ کرنے اور مال کو صدقہ کرنے سے مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی، قرآن شریف میں ہے: "اللہ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے"۔(البقرۃ: 276)
ایک اور آیت میں ہے کہ:"جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے، (اور) ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے، (ثواب میں) کئی گناہ اضافہ کردیتا ہے، اور اللہ بہت وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔"(البقرہ177، 178) ۔یعنی اللہ اس کا ثواب سات سو گنا عطا فرماتے ہیں۔
اسی طرح ا یک مرتبہ حضور ﷺ نے قسم کھا کر تین باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں سے پہلی بات یہ تھی کہ "صدقہ کی وجہ سے کسی آدمی کے مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔"
(مشکاۃ، حدیث نمبر:5287)

ان سب کا حاصل یہ ہے کہ خرچ کرنے سے مال کے اندر حقیقت میں کوئی کمی نہیں ہوتی، بلکہ نہ صرف یہ کہ اس سے باقی رقم میں خوب برکت ہوتی ہے، اور زیادہ کام تھوڑی رقم میں ہوجاتا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے وہ بڑھا چڑھا کر واپس بھی کیا جاتا ہے، اور آخرت میں بھی سات سوگنا تک ثواب ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الآیۃ: 215)
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌo

وقوله تعالیٰ: (البقرة، الآیۃ: 261,262)
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ o الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ o

وقوله تعالیٰ: (البقرة، الآیۃ: 276)
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ....الخ

صحيح مسلم: (رقم الحدیث: 1003، دار إحياء التراث العربي)
وحدثنا أبو كريب محمد بن العلاء، حدثنا أبو أسامة، عن هشام، عن أبيه، عن أسماء بنت أبي بكر، قالت: قدمت علي أمي وهي مشركة في عهد قريش إذ عاهدهم فاستفتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، قدمت علي أمي وهي راغبة، أفأصل أمي؟ قال: «نعم، صلي أمك»

صحيح البخاري: (رقم الحديث: 5357، ط: السلطانية)
عن ‌عمر رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان يبيع نخل بني النضير ويحبس لأهله قوت سنتهم.

سنن أبي داود: (رقم الحديث: 2594، 236/4، دار الرسالة)
عن أبي الدرداء أنه يقول: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ابغوني الضعفاء، فإنما ‌ترزقون وتنصرون ‌بضعفائكم".

مشكاة المصابيح: (رقم الحدیث: 5232، ط: المكتب الإسلامي، بيروت)
وعن مصعب بن سعد قال: رأى سعد أن له فضلا على من دونه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم؟. رواه البخاري

و فیه أيضاً: (رقم الحدىث: 5287)
وعن أبي كبشة الأنماري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ثلاث أقسم عليهن وأحدثكم حديثا فاحفظوه فأما الذي أقسم عليهن فإنه ما نقص مال عبد من صدقة ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها إلا زاده الله بها عزا ولا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر.......

و فیه أيضاً: (رقم الحدىث: 5265)
وعن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله يحب عبده المؤمن الفقير المتعفف أبا العيال. رواه ابن ماجه

و فیه ایضاً: (رقم الحدىث: 1930)
وعن أبي مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أنفق المسلم نفقة على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة.

و فیه أيضاً: (رقم الحدىث: 1939)
وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ". رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.

الهندية: (564/1، ط: دار الفكر)
ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا .... ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية. اليسار مقدر بالنصاب فيما روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وعليه الفتوى والنصاب نصاب حرمان الصدقة هكذا في الهداية.

و فیه أيضا: (565/1)
قال الشيخ الإمام شمس الأئمة قال مشايخنا - رحمهم الله تعالى - إنما تكون النفقة عليهما على السواء إذا تفاوتا في اليسار تفاوتا يسيرا، وأما إذا تفاوتا تفاوتا فاحشا فيجب أن يتفاوتا في قدر النفقة كذا في الذخيرة»

و فیه أيضا: (566/1)
لا يقضي بنفقة أحد من ذوي الأرحام إذا كان غنيا أما الكبار الأصحاء فلا يقضي لهم بنفقتهم على غيرهم، وإن كانوا فقراء، وتجب نفقة الإناث الكبار من ذوي الأرحام، وإن كن صحيحات البدن إذا كان بهن حاجة إلى النفقة كذا في الذخيرة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 127
maa,bap or ghair shadi shuda behen ko kharcha dene or zaroriyat se / say zayed maal jama / save karne ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.