عنوان: بینک سے سود پر قرض لیکر مکان بنانے کا حکم(108967-No)

سوال: میں نے انتہائی بحالت مجبوری میں بینک سےلون لے کر بچوں کی رہائش کے لئے ایک مکان لیا ہے، پانچ سال بعد پوری قیمت سود سمیت ادا کرکے جب وہ مکان میرا ہوجائے گا، تو میں چاہتا ہوں کہ اس مکان کو بیچ کر اصل رقم خود رکھ لوں، تاکہ دوسرا مکان خرید سکوں اور بقایا سود کی رقم سے کسی کی مدد کردوں تو کیا میں سود کی لعنت سے بچ سکتا ہوں یا سود کا گناہ مجھ پر ہوگا؟ اپنی آمدنی سے تو میں کبھی بھی گھر نہی بنا سکتا، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ سود گناہ کبیرہ ہے، اور قرآن و سنت میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے بینک وغیرہ سے سودی قرض لینے کا معاملہ کرنا ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر کسی نے معاملہ کرلیا ہو، تو اسے سودی معاملہ کرنے کا تو گناہ ہوگا، البتہ قرض کے طور پر لی گئی رقم حرام نہیں کہلائے گی، کیونکہ بینک کے پاس موجود ساری رقوم حرام نہیں ہوتیں، بلکہ زیادہ تر رقوم جو لوگوں سے لی ہوتی ہیں، وہ حلال ہوتی ہیں، اس لئے بینک سے لئے گئے پیسے حرام نہیں ہونگے، لہذا اس قرض کی رقم سے خریدا گیا مکان بھی آپ کیلئے حرام نہیں ہوگا, لیکن بینک کیلئے قرض پر اضافی رقم وصول کرنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
نیز آپ نے بھی چونکہ ایک سودی معاملہ کیا ہے، جوکہ گناہ کبیرہ ہے، لہذا اس گناہ پر اللہ پاک کے حضور صدق دل سے توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے، تاکہ اللہ پاک اس گناہ کو معاف فرما کر اس کے وبال سے حفاظت فرمائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278,279)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَo

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1598، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن جابر قال: «لعن رسول الله صلى الله عَليه وسلم آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وقال: هم سواء

الدر المختار مع رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه

بذل المجہود: (359/1، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء.

فقہ البیوع: (1061/2، ط: معارف القرآن)
القسم الثالث: ماکان مجموعا من الحلال والحرام، وھوعلی اربع صور:الصورة الاولی ان یکون الحلال عندالغاصب اوکاسب الحرام متمیزا من الحرام،فیجری علی کل واحد منہما احکامہ،وان اعطی احدا من الحلال حل للآخذ،وان اعطی من الحرام حرم علیہ،وان علم الآخذ ان الحلال والحرام متمیزان عندہ،ولکن لم یعلم ان مایاخذہ من الحلال او من الحرام،فالعبرة عندالحنفیة للغلبة،فان کان الغالب فی مال المعطی الحرام لم یجزلہ،وان کان الغالب می مالہ الحلال ،وسع لہ ذالک....ومنہ یعلم حکم التعامل مع البنوک الربویة وان اموال البنک الربوی مخلوطة بالحلال والحرام، فان راس المال الذی یفترض فیہ انہ حلال مالم یعرف خلاف ذلک، ومنہا الاموال المودعة فیہامن قبل المودعین ویفترض فیہا ایضا انہاحلال مالم یثبت خلاف ذالک، ومنہا ایرادات البنک عوضا عن الخدمات الجائزة شرعا،مثل تحویل المبالغ،وعملیات التبادل العاجل للعملات وغیرھا وھی حلال ایضا۔وفیہا ایراداتہا الغالبة الحاصلة من تعاملتہ الربویة،وھی حرام،فاموال البنک الربوی داخل فی الصورة الثالثة من القسم الثالث، فیجوزالتعامل معا بقدر ما فیہا من الحلال.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 255
bank se / say sood / interest per / par qarz lekar makan / ghar banane ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.