عنوان: ساری دُنیا میں دین پھیلانے کے لیے کوشش کرنا کیا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے؟(108985-No)

سوال: مفتی صاحب ! دین کی محنت کرنا کہ دین میری زندگی میں اور پورے عالم میں پھیل جائے، کیا یہ محنت ہر مسلمان کے ذمہ ہے، جیسا کہ دعوت و تبلیغ کی چلت پھرت میں کہا جارہا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جس طرح ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خود نیک عمل کرے، اور خود کو گناہوں سے بچائے، ایسے ہی اس کے ذمہ یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی حیثیت اور قدرت کے مطابق دوسروں کو بھی نیک عمل کرنے کی تلقین کرے اور گناہوں اور برے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتا رہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کسی خاص فرد یا کسی خاص جماعت کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ بحیثیت امت سب مسلمانوں کے ذمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو، جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اگر اہل کتاب ایمان لے آتے، تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔
(سورۃ ال عمران، الایۃ:110)

اس آیت مبارکہ میں پوری امت پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا گیا ہے، اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت کا سبب ہی اس خاص کام کو بتلایا گیا ہے۔
اسی طرح کا مضمون ایک اور آیت میں بھی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:


اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
﴿سورۃ ال عمران:الایۃ 104﴾

ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:" قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے ساتھ تم سب پر بھی اپنا عذاب بھیج دے، اس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو گے تو قبول نہ ہوگی"۔
(شعب الایمان،رقم الحدیث:7152)

لہذا ان آیات اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت کے ہر فرد کے ذمہ لازم ہے، البتہ تمام احکام شرعیہ کی طرح اس میں بھی ہر شخص کی قدرت و استطاعت پر احکام جاری ہوں گے، جس کو جتنی قدرت حاصل ہو، اس پر اتنا ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد ہوگا۔

اسی بارے میں حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی محمودیہ میں تحریر فرماتے ہیں:

"تبلیغ دین ہر زمانہ میں فرض ہے، اس زمانے میں بھی فرض ہے، لیکن فرض علی الکفایہ ہے، جہاں جتنی ضرورت ہو، اسی قدر اس کی اہمیت ہوگی اور جس جس میں جیسی اہلیت ہو، اس کے حق میں اسی قدر ذمہ داری ہوگی، ۔۔۔ ہر مؤمن اپنی اپنی حیثیت کے موافق مکلف ہے کہ خدائے پاک کے نازل فرمائے ہوئے دین کو حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق پہنچاتا رہے۔"
(فتاوی محمودیہ:203/4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (آل عمران، الایۃ: 104)
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَo

تفسير القرطبي: (165/4، ط: دار الكتب المصرية)
قد مضى القول في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر في هذه السورة «1». و" من" في قوله" منكم" للتبعيض، ومعناه أن الآمرين يجب أن يكونوا علماء وليس كل الناس علماء. وقيل: لبيان الجنس، والمعنى لتكونوا كلكم كذلك. قلت: القول الأول أصح، فإنه يدل على أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض على الكفاية، وقد عينهم الله تعالى بقوله:" الذين إن مكناهم في الأرض أقاموا الصلاة" [الحج: 41] «2» الآية. وليس كل الناس مكنوا.

شعب الايمان: (الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر، رقم الحدیث: 7152، 54/10، ط: مكتبة الرشد)
أخبرنا أبو علي الروذباري، أنا الحسين بن الحسن بن أيوب، أنا أبو حاتم الرازي، نا داود الجعفري، نا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عبد الله بن عبد الرحمن، عن حذيفة بن اليمان، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " والذي نفسي بيده، لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا منه، ثم تدعونه فلا يستجيب لكم ".

فتاوی محمودیہ: (التبلیغ، 203/4، ط: ادارۃ الفاروق)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 263
saari dunya me / may deen phelaney ke / kay liye koshish karna kia har musalman ki zime dari he / hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.