عنوان:
دوسری جماعت کےلیے اقامت کا حکم(899-No)
سوال:
پاکستان میں بعض راستے کی مساجد میں جماعت ہو چُکی ہوتی ہے، جب دوسری جماعت كے لیے اقامت کہتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اقامت ایک بار ہو چُکی ہے، دوبارہ کی ضرورت نہیں۔
کیا اقامت کے بغیر دوسری جماعت ہو جائیگی؟
پہلی جماعت کیلئے بھی اقامت کیا واجب ہے؟
جواب: اقامت جماعت کی سنت ہے، لہذا اقامت کے بغیر نماز ہو تو جاتی ہے، مگر ترکِ سنت کی وجہ سے مکروہ ہوتی ہے۔
نیز واضح ہو کہ راستے کی وہ مسجد جس کا امام ومؤذن مقرر نہ ہو اور جماعت کا کوئی وقت بھی متعین نہ ہو، لوگ اپنی اپنی نماز پڑھ کر چلے جاتے ہوں، ایسی مسجد میں الگ اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (395/1، ط: دار الفکر)
(قوله: إلا في مسجد على طريق) هو ما ليس له إمام ومؤذن راتب فلا يكره التكرار فيه بأذان وإقامة، بل هو الأفضل خانية.
الفتاوی الھندیۃ: (55/1، ط: دار الفکر)
مسجد ليس له مؤذن وإمام معلوم يصلي فيه الناس فوجا فوجا بجماعة فالأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة. كذا في فتاوى قاضي خان في فصل المسجد.
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: (6/6، ط: دار السلاسل)
أن الإقامة سنة مؤكدة، وهو مذهب المالكية، والراجح عند الشافعية، وهو الأصح عند الحنفية، وقال محمد بالوجوب، ولكن المراد بالسنة هنا السنن التي هي من شعائر الإسلام الظاهرة، فلا يسع المسلمين تركها، ومن تركها فقد أساء، لأن ترك السنة المتواترة يوجب الإساءة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Doosri Jumaat kay liey Iqamat ka Hukm, Hukam, Dusri, Jumat, ke, Iqama, Iqamah,
Ruling on Iqamat for second congregational prayer