عنوان: کسی کے لئے اکراماً کھڑا ہونا کیسا ہے؟(109022-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت جی ! 1 آدمی کا کہنا ہے کہ کسی سے کھڑے ہو کر ملنا یا کسی کیلئے کھڑے ہونا گناہ ہے۔ براہ کرم رہنمای فرمادیں، کوئی حدیث پاک ہو ، تو وہ بھی بھیج دیں۔

جواب: کسی کے لئے اکراماً کھڑے ہونے سے متعلق مختلف احادیث وارد ہوئی ہیں، بعض احادیث میں آنے والے کے لیے کھڑے ہونے کا ذکر ملتا ہے، جیسے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے:

رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا:" تم اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔"
(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 4695)

حضرت عائشہ کی ایک تفصیلی حدیث ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں:
"جب حضرت فاطمہ آتیں، تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے، خوش آمدید کہتے اور ہاتھ پکڑ لیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے اور جب آپ ﷺ حضرت فاطمہ کے گھر جاتے، تو وہ اٹھ کھڑی ہوتیں اور ہاتھ پکڑ لیتیں اور بوسہ لیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتیں"۔
(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر:15/403)

جبکہ کچھ احادیث میں کھڑے نہ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے، تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: "تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو، جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر:4699)

اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔"(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر:4700)

مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں فقہاء اور محدثین نے کسی کے لئے کھڑے ہونے، یا نہ ہونے میں درج ذیل تفصیل بیان کی ہے:

1) کسی معزز اور محترم شخصیت کے لئے احتراماً کھڑا ہونا، یا کسی عزیز یا مسافر کے آنے پر کھڑا ہونا جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے، بشرطیکہ آنے والے کے دل میں اس کی خواہش نہ ہو۔

2) اگر آنے والے کے دل میں بڑائی اور تکبر کی وجہ سے کھڑے ہونے کی خواہش ہے، یا اس کے دل میں تکبر پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، تو اس کیلئے کھڑا ہونا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشکوٰۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 4695)
عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: "قُومُوا إِلَى سيِّدكم" . مُتَّفق عَلَيْهِ.

صحیح ابن حبان: (403/15، ط: موسسة الرسالة، بیروت)
عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا ، كَانَ أَشْبَهَ كَلَامًا وَحَدِيثًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ ، وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ، قَامَ إِلَيْهَا وَقَبَّلَهَا ، وَرَحَّبَ بِهَا ، وَأَخَذَ بِيَدِهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَخَذَتْ بِيَدِهِ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَأَسَرَّ إِلَيْهَا ، فَبَكَتْ ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا ، فَضَحِكَتْ ، فَقَالَتْ : كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ فَضْلًا عَلَى النَّاسِ ، فَإِذَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بَيْنَا هِيَ تَبْكِي إِذَا هِيَ تَضْحَكُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ : أَسَرَّ إِلَيَّ أَنَّهُ مَيِّتٌ ، فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكَتْ۔

مشکوٰۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 4699)
وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

مشکوٰۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 4700)
وَعَن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: "لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضهَا بَعْضًا" . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

الدر المختار: (384/6، ط: سعید)
وفي الوهبانية: يجوز بل يندب القيام تعظيماً للقادم كما يجوز القيام، ولو للقارئ بين يدي العالم وسيجيء نظماً.

رد المحتار: (384/6، ط: سعید)
(قوله: يجوز بل يندب القيام تعظيما للقادم إلخ) أي إن كان ممن يستحق التعظيم قال في القنية: قيام الجالس في المسجد لمن دخل عليه تعظيماً، وقيام قارئ القرآن لمن يجيء تعظيماً لايكره إذا كان ممن يستحق التعظيم، وفي مشكل الآثار: القيام لغيره ليس بمكروه لعينه، إنما المكروه محبة القيام لمن يقام له، فإن قام لمن لايقام له لايكره. قال ابن وهبان: أقول: وفي عصرنا ينبغي أن يستحب ذلك أي القيام لما يورث تركه من الحقد والبغضاء والعداوة لا سيما إذا كان في مكان اعتيد فيه القيام، وما ورد من التوعد عليه في حق من يحب القيام بين يديه كما يفعله الترك والأعاجم اه. قلت: يؤيده ما في العناية وغيرها عن الشيخ الحكيم أبي القاسم كان إذا دخل عليه غني يقوم له ويعظمه، ولايقوم للفقراء وطلبة العلم، فقيل له في ذلك، فقال الغني: يتوقع مني التعظيم، فلو تركته لتضرر والفقراء والطلبة إنما يطمعون في جواب السلام والكلام معهم في العلم، وتمام ذلك في رسالة الشرنبلالي۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 336
kisi keliye ikraman khara hona kesa he?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.