عنوان: ’’ من فارق الجماعۃ الخ‘‘’’ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا ‘‘ میں جماعت سے کیا مراد ہے؟ (109026-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! درج ذیل ترمذی شریف کی حدیث مبارک میں جماعت سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا حکم مجھے اللہ تعالی نے دیا ہے۔ 1) بات سننا۔ 2)سننے کے بعد اطاعت کرنا، 3)جہاد کرنا۔ 4) ہجرت کرنا۔ 5)جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا، اس نے اسلام کا پٹا اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا، مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آجائے۔ (حدیث نمبر 2863)

جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ"سنن الترمذی" میں ذکر کردہ ایک طویل روایت کے ہیں، ذیل میں روایت کا سوال میں ذکر کردہ حصہ عربی متن، ترجمہ اور تشریح کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

قال النبي صلى الله عليه وسلم:وأنا آمركم بخمس الله أمرني بهن، السمع والطاعة والجهاد والهجرة والجماعة، فإنه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يرجع، ومن ادعى دعوى الجاهلية فإنه من جثا جهنم.
(سنن الترمذی: رقم الحدیث:2863)

ترجمہ:
جناب رسول اللهﷺ نے ارشاد فرمایا: میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے۔
(۱) بات سننا
(۲) (سننے کے بعد)اطاعت کرنا
(۳) جہاد کرنا
(۴) ہجرت کرنا
(۵) جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا، مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے، اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا، تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔

تشریح:
حدیث مبارکہ کے اس حصے میں جناب رسول اللہ ﷺ نے پانچ چیزوں کا حکم فرمایا:
2-1)’’بات سننا اور اطاعت کرنا ‘‘ یعنی حق بات کو سننا، اللہ تعالی کے اوامر کو سن کر اس پر عمل کرنا اور منہیات کو سن کر اس سے روکنا۔

3۔)’’ ہجرت کرو ‘‘ اس حکم میں ‘‘ ہجرت ‘‘ سے مراد ہے کہ دارالکفر میں رہنے والا مسلمان وطن چھوڑ کر دار الاسلام چلا جائے یا اگر کسی ایسے مسلم ملک یا شہر میں ہو، جو بدعات و منہیات کا گڑھ ہونے کی وجہ سے ’’ دارالبدعۃ ‘‘ کے حکم میں ہو، تو اس کو چھوڑ کر ایسے ملک یا شہر میں چلا جائے، جو سنت دین کا مرکز ہونے کی وجہ سے ’’ دارالسنۃ‘‘ کے حکم میں ہو۔
اسی طرح گناہ معصیت کی زندگی کو چھوڑ کر توبہ و انابت الی اللہ کی راہ کو اختیار کر لینا بھی ‘‘ ہجرت ‘‘ کے حکم میں ہے۔

4)’ اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘‘ اس حکم میں ‘‘ جہاد ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی ترقی و شوکت ، دین کی سربلندی اور روئے زمین پر قانون الہٰی کے غلبہ کے لیے اسلام دشمن طاقتوں اور کافروں سے جنگ کرو، نیز اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے باز رکھ کر اس کو مارنا بھی ’’ جہاد ‘‘ ہے، کیونکہ انسان کے ساتھ اس کے نفس کی دشمنی سے زیادہ سخت اور نقصان دہ اور چیز نہیں ہے۔

5)’’ جو شخص ملت کی اجتماعیت سے بالشت بھر بھی الگ ہو الخ ‘‘ یعنی جس مسلمان نے اس چیز کو ترک کیا، جس پر پوری ملت عمل پیرا ہے، جیسے سنت کو اختیار کرنا، بدعات سے اجتناب کرنا، امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، اگرچہ اس نے ان چیزوں کو بہت معمولی درجے میں ترک کیا ہو، تو اس نے گویا اسلام کی فرمانبرداری کا پٹہ اپنی گردن سے نکال دیا، البتہ اگر وہ اپنے اس (فعل ) (ملت کی اجتماعیت سے علیحدگی ) سے باز آ گیا اور اس نے اپنی بدعملی سے رجوع کر لیا، تو پھر وہ پہلے ہی کی طرح اسلام کا ایک فرمانبردار فرد ہو جائے گا۔
’’ اور جس شخص نے پکارا جاہلیت کا سا پکارنا الخ ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کی طرف بلایا، اور اس طرح وہ لوگوں کو اسلام کے مخالف عقائد ونظریات اور باطل رسوم وعادات میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بنا، اور بعض حضرات یہ مراد بیان کرتے ہیں کہ اس نے کسی حادثہ و حملہ کے وقت اس طرح لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلایا، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ جب کسی شخص پر دشمن غالب آ جاتا تھا، تو اپنی مدد کے لئے لوگوں سے بآواز بلند یوں فریاد کرتا ‘‘ اے فلاں شخص کے خاندان والو! اے فلاں شخص کے خاندان والو ! چنانچہ وہ لوگ اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے، قطع نظر اس بات کے وہ شخص ظالم ہے یا مظلوم ۔‘‘

جماعت سے کیا مراد ہے؟
جماعت سے’’اہل ِسنت والجماعت‘‘ مرادہے، جو عقائد و احکام میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کے مسلک پر ہوں، قرآن کریم کے ساتھ سنّتِ نبویہﷺ کو بھی حجت مانتے ہوں، اس پر عمل کرتے ہوں اور دین میں اپنی طرف سے کچھ کمی، زیادتی کرنے والے نہ ہوں۔
اور جو فرقہ اس قسم کے عقائدِ صحیحہ نہ رکھتا ہو، وہ نجات پانے والا نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

شرح الطيبي على مشكاة المصابيح: (2574/8، ط: مكتبة نزار مصطفى الباز)
الحديث الأول عن الحارث: قوله: ((بالجماعة)) المراد بهم الصحابة ومن بعدهم من التابعين وتابعي التابعين من سلف الصحابة، أي آمركم بالتمسك بهديهم والانخراط في زمرتهم.

مرقاۃ المفاتیح: (248/7، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(عن الحارث الأشعري) قال المؤلف: هو الحارث بن الحارث الأشعري يعد في الشاميين ; روى عنه أبو سلام الحبشي وغيره، (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آمركم) ; أي أنا (بخمس) ; أي خصال (بالجماعة) ; أي باتباع إجماع جماعة المسلمين، والاعتقاد، والقول، والعمل المتعلق بالدين، قال الطيبي: المراد بالجماعة الصحابة، ومن بعدهم من التابعين، وتابعي التابعين من السلف الصالحين ; أي آمركم بالتمسك بهديهم وسيرتهم والانخراط في ذمتهم، (والسمع) ; أي استماع كلمة الحق وقبولها من الأمير والغني والفقير وغيرهما، وقال الطيبي: المراد بالسمع ; الإصغاء إلى الأوامر والنواهي وتفهمهما، (والطاعة) ; أي طاعة الأمير في المشروعات، وقال الطيبي: المراد بالطاعة الامتثال بالأوامر والانزجار عن النواهي (والهجرة) ; أي الانتقال من مكة إلى المدينة قبل فتح مكة، ومن دار الكفر إلى دار الإسلام، ومن دار البدعة إلى دار السنة، ومن المعصية إلى التوبة، لقوله - صلى الله تعالى عليه وسلم -: " «المهاجر من هجر ما نهى الله عنه» " (والجهاد في سبيل الله) ; أي مع الكفار لإعلاء كلمة الله وقمع أعدائها، ومع النفس بكفها عن شهواتها، ومنعها عن لذاتها، فإن معاداة النفس مع الشخص أقوى وأضر من معاداة الكفرة معه، وقد روى: أعدى عدوك نفسك التي بين جنبيك (فإنه) وفي نسخة صحيحة (وإنه) قال الطيبي: اسم " إن " ضمير الشأن، والجملة بعده تفسيره، وهو كالتعليل للأمر بالتمسك بعرى الجماعة، والواو مثلها ; في قوله تعالى: {وقالا الحمد لله} [النمل: 15] بعد قوله {ولقد آتينا داود وسليمان علما} [النمل: 15] في الإخبار عن الجملتين، وتفويض الترتيب بينهما إلى ذهن السامع ( «من خرج من الجماعة قيد شبر» ) بكسر القاف وسكون التحتية ; أي قدره وأصله القود من القود ; وهو المماثلة والقصاص، والمعنى من فارق ما عليه الجماعة بترك السنة واتباع البدعة ونزع اليد عن الطاعة، ولو كان بشيء يسير يقدر في الشاهد بقدر شبر، ( «فقد خلع ربقة الإسلام» ) ; أي نقض عهده وذمته (من عنقه) وانحرف عن الجماعة وخرج عن الموافقة (إلا أن يراجع) بصيغة المفاعلة للمبالغة، والربقة بكسر فسكون ; وهي في الأصل ; عروة في حبل يجعل في عنق البهيمة، أو يدها تمسكها، فاستعارها للإسلام، يعني ما شد المسلم به نفسه من عرى الإسلام ; أي حدوده وأحكامه وأوامره ونواهيه، وقال بعضهم: والمعنى فقد نبذ عهد الله، وأخفر ذمته التي لزمت أعناق العباد ; لزوم الربقة، بالكسر، وهي واحدة الربق، وهو حبل فيه عدة عرى يشد بهم البهم ; أي أولاد الضأن، والواحدة من تلك العرى ربقة، (ومن دعا بدعوى الجاهلية) قال الطيبي: عطف على الجملة التي وقعت مفسرة لضمير الشأن للإيذان بأن التمسك بالجماعة وعدم الخروج عن زمرتهم من شأن المؤمنين والخروج عن زمرتهم من هجيرى الجاهلية، كما قال - صلى الله عليه وسلم -: " «من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية» " فعلى هذا ينبغي أن يفسر دعوى الجاهلية بسننها على الإطلاق ; لأنها تدعو إليها، وهو أحد وجهي ما قال القاضي، والوجه الآخر الدعوى تطلق على الدعاء وهو النداء، والمعنى من نادى في الإسلام بنداء الجاهلية، وهو أن الرجل منهم إذا غلب عليه خصمه نادى بأعلى صوته قومه، يا آل فلان، فيبتدرون إلى نصره ظالما كان، أو مظلوما، جهلا منهم وعصبية، وحاصل هذا الوجه يرجع أيضا إلى الوجه السابق، وينصره ما روي في شرح السنة في آخر هذا الحديث، فادعوا المسلمين بما سماهم الله المسلمون، والمؤمنون، وعباد الله، (فهو) أي الداعي المذكور (من جثى جهنم) بضم الجيم مقصورا ; أي من جماعاتهم، جمع جثوة، بالحركات الثلاث، وهي الحجارة المجموعة، وروي من جثي، بتشديد الياء، وضم الجيم، جمع جاث، من جثا على ركبتيه يجثو، أو يجثي، وكسر الجيم، جائز لما بعدها من الكسرة، وقرئ بهما في قوله تعالى: {ونذر الظالمين فيها جثيا} [مريم: 72] وفي الفائق، واحدتها جثوة، بضم الجيم ; أي من جماعات جهنم، وهي في الأصل ما جمع من تراب، أو غيره فاستعير للجماعة، (وإن صام) أي ولو صام (وصلى وزعم أنه مسلم، رواه أحمد والترمذي)

الفصل في الملل: (90/2، ط: مکتبۃ الخانجی)
قال أبو محمد وأهل السنة الذين نذكرهم أهل الحق ومن عداهم فأهل البدعة فإنهم الصحابة رضي الله عنهم وكل من سلك نهجهم من خيار التابعين رحمة الله عليهم ثم أصحاب الحديث ومن اتبعهم من الفقهاء جيلا فجيلا إلى يومنا هذا أو من اقتدى بهم من العوام في شرق الأرض وغربها رحمة الله عليهم.

تحفة الأحوذي: (131/8، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(والجماعة) قال الطيبي المراد بالجماعة الصحابة ومن بعدهم من التابعين وتابعي التابعين من السلف الصالحين أي آمركم بالتمسك بهديهم وسيرتهم والانخراط في زمرتهم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 265
’’ من فارق الجماعۃ الخ‘‘"jo jamat se / say aik balisht bhi hata / alehda hua. is ne islam ka patta apni gardan se / say bahir nikal phenka " me / mein jamat se / say kia murad he / hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.