عنوان: ذاتی گھر کے احاطہ میں عام گذرگاہوں (public roads) کا حصہ شامل کرنے اور اسے بیچنے کا شرعی حکم(9048-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کسی نے اپنے گھر کے باہر جو خالی ایریا ہوتا ہے، اس پر چار دیواری تعمیر کرلی اور اسے گھر کے ساتھ لے لیا اور ایسے ہی وہ گھر فروخت ہوگیا، وہ جگہ تو حکومت کی ملکیت تھی، اب اس کی تلافی کیسے کریں گے اور اس جگہ سارے اسی طرح اپنے گھر کے آگے والی جگہ کو گیلری کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس کا شریعت کے لحاظ سے حکم بتادیجئے اور اس کی تلافی کیسے ہو، یہ بھی بتادیجئے.
جزاکم اللّٰہ خیراً کثیرا

جواب: واضح رہے کہ اپنے ذاتی گھر کے احاطہ میں عام سڑکوں (public roads) اور گلیوں کی عام گذرگاہوں کا کچھ حصہ حکومت کی اجازت کے بغیر شامل کرنا شرعی اور قانونی جرم ہے، لہذا ایسا کرنا جائز نہیں ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ سخت گناہ میں مبتلیٰ ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ اس شخص نے ایسا مکان خریدا ہے، جس کے ایک حصہ سے عام لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں، لہذا فروخت کرنے والے پر لازم ہے کہ زمین کا وہ حصہ حکومت سے جائز طریقے سے منظور کروائے، بصورت دیگر فروخت کرنے والے کے لیے اس زمین کے بقدر قیمت اور خریدار کے لیے زمین کا وہ حصہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآية: 188)
وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَo

مسند احمد: (رقم الحدیث: 20715، ط: موسس قرطبۃ، القاھرۃ)
عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہٖ قال: کنت آخذا بزمام ناقۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم فی أوسط أیام التشریق أذود عنہ الناس ، فقال: "یا أیہا الناس ! ألا لا تظلموا ، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنہٗ لا یحل مال امرء إلا بطیب نفس منہ".

الدر المختار مع رد المحتار: (مطلب فی الدین، 305/6، ط: دار الفکر)
فقال (أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء (ولكل أحد من أهل الخصومة) ولو ذميا (منعه) ابتداء (ومطالبته بنقضه) ورفعه (بعده) أي بعد البناء، سواء كان فيه ضرر أو لا وقيل إنما ينقص بخصومته إذا لم يكن له مثل ذلك وإلا كان تعنتا زيلعي .
(قوله فإن ضر لم يحل) كان عليه أن يقول فإن ضر أو منع لم يحل اه.
وفي القهستاني: ويحل له الانتفاع بها وإن منع عنه كما في الكرماني، وقال الطحاوي: إنه لو منع عنه لا يباح له الإحداث ويأثم بالانتفاع والترك كما في الذخيرة.

الھندیۃ: (الباب الحادي عشر في جناية الحائط و الجناح و الكنيف، 40/6، ط: دار الفکر)
وفي الجامع الصغير رجل أخرج إلى الطريق كنيفا أو ميزابا، أو بنى دكانا، أو جرصنا فلكل واحد من عرض الناس أن يقلع ذلك ويهدمه إذا فعل ذلك بغير إذن الإمام أضر ذلك بالمسلمين أو لم يضر، ويستوي في هذا الحق المسلم والكافر والمرأة. أما ليس للعبد حق نقض الدار المبنية على الطريق هكذا في الخلاصة.
هذا إذا بنى على طريق العامة بناء لنفسه، وإن بنى شيئا للعامة كالمسجد وغيره ولا يضر لا ينقض كذا روي عن محمد - رحمه الله تعالى - كذا في النهاية.

کفایت المفتی: (کتاب الغصب، 175/8، ط: دار الاشاعت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 101
zati / zaati ghar ke / kay ehate / ehatey me / mein aam guzargaho /public road ka hissa shamil karne / karney or usey bechney ka shari / sharae hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.