عنوان: ويب سائٹ پر دوسروں کے بنائے ہوئے کارٹون اپلوڈ (upload) کرکے پیسے کمانے کا حکم(109187-No)

سوال: میری ایک ویب سائٹ ہے، جس کے اوپر میں دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے کارٹون اپلوڈ کر تا ہوں، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: اگر یہ کارٹون موسیقی یا فحاشی وغیرہ پر مشتمل ہوں، تو انہیں بنانا، اپلوڈ کرنا، دیکھنا اور سننا سب ناجائز اور حرام ہے، اسی طرح کسی اور کے بنائے ہوئے کارٹون اصل مالکان کی اجازت کے بغیر اپلوڈ (upload) کیے جائیں، تو بھی ایسا کرنا ناجائز ہے، جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں اس سے پیسے کمانا بھی حلال نہیں ہے، اور اگر رقم وصول کرچکے ہوں، وہ بلانیتِ ثواب صدقہ کردیں۔

تاہم اگر وہ کارٹون اصل مالک کی اجازت سے اپلوڈ (upload) کیے جائیں، نیز ان میں فحاشی اور موسیقی وغیرہ نہ ہو، بلکہ بچوں کے لیے اچھی نیت سے اسلامی انداز میں بنائے گئے کارٹون ہوں، تو ان سے پیسے کمانے کی گنجائش ہے۔

تاہم ایسی صورت میں بھی کوشش کرنا چاہیے کہ ان میں جاندار کی تصاویر نہ ہوں، بلکہ صرف غیر جاندار چیزوں پر مشتمل ہوں، کیوںکہ جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کے حرام اور حلال ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اس لیے بہتر اور احتیاط یہی ہے کہ بلا ضرورت جاندار کی ڈیجیٹل تصاویر بنانے اور دیکھنے سے اجتناب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النور: الایۃ: 19)
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ‌ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَO

سنن ابن ماجه: (رقم الحديث: 1901، ط: دار إحياء الكتب العربية)
عن مجاهد، قال: كنت مع ابن عمر، " فسمع صوت طبل، فأدخل إصبعيه في أذنيه، ثم تنحى، حتى فعل ذلك ثلاث مرات، ثم قال: هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم.

السنن الكبرى للبيهقي: (رقم الحديث: 11545، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه۔

النتف في الفتاوى للسغدي: (574/2، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت)
والاجارة الفاسدة على احد عشر وجها: احدها الاجارة على المعاصي وهو ان يستأجر الرجل الرجل ليقتل رجلا او يضربه او يشتمه او يستأجر النائحه او ‌المغنية لتنوح علي ميتة او لتغني له او يستأجر حمالا ليحمل له خمرا او غيره فان استأجرها على ان يطرح عنه ميتة أو يصب خمرا فهو جائز وله الاجرة ولا ‌أجرة على المعاصي لا المسماة ولا المثل.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 226
web site per / par dosro k / kay banaye huwe cartoon apload karke pese kamane ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.