resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ناپاک کپڑے بالٹی میں ڈال کر پانی بہانے سے کپڑے پاک ہونے کا حکم(9284-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک عالمِ دین نے کپڑوں کو پاک کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ ناپاک کپڑے کو کسی بالٹی میں ڈال دیں اور نل کھول دیں، جب بالٹی بھر جائے گی اور پانی بہنے لگے گا، اس سے پانی اور کپڑے دونوں پاک شمار ہونگے۔ براہ کرم رہنمائی فرمادیں کہ کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ناپاک کپڑوں پر لگی ہوئی نجاست کو دھوتے ہوئے، جب یہ یقین ہو جائے کہ اس پر لگی ہوئی نجاست دھل گئی ہے، تب وہ کپڑے پاک ہوتے ہیں، نجاست کو دھونے کے مختلف طریقے فقہاء کرام نے بیان فرمائے ہیں:
1- اگر کپڑوں پر لگی ہوئی نجاست نظر آ رہی ہو، اور وہ ٹھوس بھی ہو، تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ کہ اس نجاست کے عین کو زائل کر دیا جائے، تو وہ کپڑا پاک ہو جائے گا، خواہ وہ ایک مرتبہ پانی بہانے سے زائل ہو جائے۔
2- جو نجاست ٹھوس نہ ہو، بلکہ مائع ہو، تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کپڑے کو تین مرتبہ دھویا جائے، اور ہر مرتبہ دھو کر کپڑے کو نچوڑا جائے۔
3- اسی طرح اگر کپڑوں کو ایسے پانی میں ڈالا جائے، جو ماء جاری (بہتا ہوا پانی جیسے نہر وغیرہ کا پانی) یا وہ پانی جو ماء جاری کے حکم میں ہو، جیسے کسی برتن یا تالاب وغیرہ میں پانی کو مسلسل چھوڑنا کہ وہ پانی سے بھر کر بہنے لگے، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف سے اس برتن میں پانی آرہا ہوتا ہے، اور دوسری طرف سے اس برتن میں سے پانی باہر بہہ رہا ہوتا ہے، تو ایسی صورت حال کو بھی ماء جاری کہا جاتا ہے، لہذا ماء جاری میں نجس کپڑے کو اتنی دیر ڈالنا کہ جتنی دیر میں یہ یقین ہو جائے کہ اس پر لگی ہوئی نجاست دھل گئی ہو گی، تو وہ کپڑے پاک ہو جائیں گے، انہیں تین مرتبہ دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
سوال میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق اگر ناپاک کپڑے بالٹی میں ڈالے جائیں، اور اس بالٹی میں لگا تار اتنا پانی چھوڑا جائے، یہاں تک کہ وہ بالٹی پانی سے بھر کر بہنے لگے، تو ایسی بالٹی میں ناپاک کپڑے اتنی دیر ڈالنا کہ جس سے یہ یقین ہو جائے کہ ان کپڑوں پر لگی ہوئی نجاست دھل گئی ہوگی، تو اس طرح کرنے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے، تین مرتبہ دھونا ضروری نہیں ہے (بشرطیکہ وہ نجاست رگڑے بغیر زائل ہو جاتی ہو)۔
البتہ جس وقت کپڑے بالٹی یا ٹب میں ڈالے جائیں، اس وقت بھی بالٹی میں ایک طرف سے پانی آ رہا ہو اور دوسری طرف بالٹی سے پانی بہہ رہا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (333/1، ط: سعید)
"أن المعتبر فی تطھیر النجاسۃ المرئیۃ زوال عینھا ولو بغسلۃ واحدۃ ولو فی إجانۃ کمامر فلا یشترط فیھا تثلیث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبۃ الظن فی تطھیر غیر المرئیۃ بلا عدد علی المفتیٰ بہ… ولا شک ان الغسل بالماء الجاری وما فی حکمہ من الغدیر أو الصب الکثیر الذی یذھب بالنجاسۃ اصلاً ویخلفہ غیرہ مراراً بالجریات اقوی من الغسل فی الإجانۃ التی علی خلاف القیاس، لأن النجاسۃ فیھا تلاقی الماء وتسری معہ فی جمیع اجزاء الثوب فیبعد کل البعد التسویۃ بینھما فی اشتراط التثلیث".
(قولہ فی غدیر) ای ماء کثیر لہ حکم الجاری (قولہ أو صب علیہ ماء کثیر) ای بحیث یخرج الماء ویخلفہ غیرہ ثلاثاً لان الجریان بمنزلۃ التکرار والعصر، ھو الصحیح".

تبیین الحقائق: (فصل فی الانجاس، 75/1 )
"والنجس المرئی یطھر بزوال عینہ لان کنجس المحل باعتبار العین فیزول بزوالھا ولو بمرۃ۔۔۔۔وغیرہ بالغسل ثلاثا والعصر کل مرۃ ای غیر المرئی من النجاسۃ بثلاث غسلات وبالعصر فی کل مرّۃ والمعتبر فیہ غلبۃ الظن".

الفتاوٰی التاتارخانیۃ: (کتاب الطھارۃ، الفصل الثامن فی تطھیرالنجاسات، 306/1)
"ویجب ان یعلم ان ازالۃ النجاسۃ وازالتھاان کانت مرئیۃ بازالۃ عینھا واثر ھاان کانت شیئاً یزول اثرھاولایعتبرفیہ العذروان کان شیئاًلایزول اثرھا فازالتھابالزالۃ عینھا ویکون مابقی من الاثر عفواًوان کان کثیراً.....ھٰذا اذا کانت النجاسۃ مرئیۃ کالبول والخمر ذکر فی الاصل وقال یغسلھا ثلاث مرات ویعصر فی کل مرۃ".

کذا فی فتاوی بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144012200697

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

napak kaprey / libas balti me / mein / may daal kar pani / water bahane / bahaney se / say kaprey / libas pak hone / honey ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity