عنوان: کمپنی کی طرف سے لائف انشورنس پر مجبور کرنے کی صورت میں حکم (9299-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہوں، کمپنی کی طرف سے مجھے لائف انشورنس مل رہی ہے، کیا یہ انشورنس میرے لئے لینا جائز ہے؟ مجھے کمپنی کہتی ہے کہ تمہیں یہ ضرور لینا ہے! اگر میرے لیے یہ لینا جائز نہ ہو، تو میں کیا کروں؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ مروجہ انشورنس چونکہ سود، جوا (قمار) اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس کی پالیسی لینا جائز نہیں ہے، البتہ ضرورت کے موقع پر ایسی تکافل کپمنی سے پالیسی لی جاسکتی ہے، جو مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہو۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے اگر کمپنی کی طرف سے گروپ انشورنس کی مد میں تنخواہ سے کٹوتی جبری/غیر اختیاری ہو جس کو ملازم نہ کٹوانا چاہے، تب بھی کاٹ لی جاتی ہو٬ (جیساکہ سوال میں مذکور ہے) تو اس کا حکم یہ ہے کہ کاٹی جانے والی اصل رقم اور ملنے والی اضافی رقم ملازم کے حق میں سود تو نہیں ہے٬ لیکن ملازم کیلئے اس رقم کو وصول کرنے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کمپنی گروپ انشورنس کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں شامل کرکے پھر ملازم کو دیتی ہے٬ تو ملازم کیلئے جمع کروائی گئی اصل رقم اور اضافی رقم دونوں کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے، اور اگر یہ رقم ملازم کو براہ راست انشورنس کمپنی سے وصول ہوتی ہو٬ تو چونکہ انشورنس کمپنی کی اکثر آمدنی ناجائز اور حرام ہوتی ہے، اس لئے ایسی صورت میں ملازم کیلئے صرف اصل رقم لینا جائز ہے٬ اس پر اضافی رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔
اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ ملازم نے اپنی مرضی اور اختیار سے انشورنس کی مد میں اپنی تنخواہ سے کٹوتی کروائی ہو٬ تو ایسی صورت میں اگر کمپنی انشورنس کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں شامل کرکے ملازم کو دے، تو ملازم کو صرف اصل رقم وصول کرنا چاہیے، اضافی رقم اگرچہ سود نہیں ہے٬ لیکن اس میں سود کے ساتھ تشبہ پایا جاتا ہے٬ اس اضافی رقم وصول کرنے اور استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے، لیکن اگر یہ رقم ملازم کو براہ راست انشورنس کمپنی سے وصول ہوتی ہو، تو پھر صرف اصل رقم لینا جائز ہے٬ اس پر اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الآیة: 278)
یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo

فقه البیوع: (1066/2، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
أما عملیۃ التأمین، فعملیۃ تشتمل علی الربوا أو علی الغرر أو علیھما کما سیأتی إن شاء اللہ تعالی. و بھذا أفتی جمھور العلماء المعاصرین والمجامع الفقھیۃ.

و فیه أیضا: (1006/2)
أما فی بیان القسم الأول، نعبر عن جمیع العقودالباطلۃ فیما یأتی بالمغصوب، والذی یقبض ھذا المال الحرام بالغصب وذلک لسھولۃ التعبیر. ویشمل ھذا التعبیر کل مال حرام لایملکہ المرأ فی الشرع، سواء کان غصبا أو سرقۃ أو رشوۃ أو ربا فی القرض أو ماخوذا ببیع باطل۔
وإنہ حرام للغاصب الانتفاع بہ، أو التصرف فیہ، فیجب علیہ أن یردہ إلی مالکہ أو إلی وارثہ بعد وفاتہ وإن لم یمکن ذلک لعدم معرفۃ المالک أو وارثہ أو لتعذر الرد علیہ لسبب من الاسباب، وجب علیہ التخلص منہ بتصدقہ عنہ من غیر نیۃ ثواب الصدقۃ لنفسہ.

فتاوی عثمانی: (336,337/3، ط: مکتبة معارف القرآن)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 189
company ki taraf se / say life insurance per / par majboor karne / karney ki sorat me / mein / may hukum / hokum / hokom

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.