عنوان: شوہر کی اولاد کو "ربیب" اور "ربیبہ" کہتے ہیں یا نہیں؟(9394-No)

سوال: السلام عليكم، عورت کے پہلے شوہر سے لڑکی یا لڑکے کو شریعت (عربی) میں (ربیب / ربیبۃ) کہتے ہیں، تو کیا آدمی کے لڑکے اور لڑکی کو بھی ربیب / ربیبۃ کہیں گے یا کچھ اور کہیں گے؟
براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: عربی زبان میں "ربیب" اور "ربیبہ" کا اطلاق عورت کی پہلے شوہر سے اولاد (بیٹے، بیٹیاں، پوتے،پوتیاں، نواسے اور نواسیاں وغیرہ) پر ہوتا ہے، شوہر کی اولاد کو "ربیب" اور "ربیبہ" نہیں کہتے، کیونکہ یہاں "ربیب" بمعنیٰ"مربوب" ہے، جو ربَّ ،یرُبُّ، سے ماخوذ ہے، جس کا معنیٰ ہے پرورش کرنا، چونکہ بيوی کی اولاد كی جسمانی اور مالی پرورش دوسرا شوہر کرتا ہے، اس اعتبار سے وہ اس کے لیے "ربیب" اور "ربیبہ "ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لسان العرب: (405/1، دار صادر)
ربيبة الرجل بنت امرأته من غيره. وفي حديث ابن عباس، رضي الله عنهما: إنما الشرط في الربائب؛ يريد بنات الزوجات من غير أزواجهن الذين معهن.

إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري للقسطلانی: (30/8، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)
وربيبة فعيلة بمعنى مفعول لأن زوج الأم يربها وقال القاضي عياض ‌الربيبة مشتقة من الرب وهو الإصلاح لأنه يربها ويقوم بأمورها وإصلاح حاله ومن ظن من الفقهاء أنه مشتق من التربية فقد غلط لأن شرط الاشتقاق الاتفاق في الحروف الأصلية والاشتراك فيها فإن آخر رب باء موحدة وآخر ربي ياء مثناة تحتية..إلخ.

القاموس الوحید: (ص: 587، ادارة اسلامیات)

معارف القرآن: (361/2)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 192
shohar / khawand ki olad / aulad ko "rabib" or "rabibah" kehte hain ya nahi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.