عنوان: والدین یا سسرال کے گھر جانے پر قصر کا حکم (9523-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا گاؤں مانسہرہ ہے، جہاں میری پیدائش بھی ہے، ہمارے گھر والے سب گاؤں سے راولپنڈی آ گئے ہیں، اور میں اپنی فیملی کے ساتھ منگلہ میں رہائش پزیر ہوں، جب تک میری یہاں منگلہ میں جاب ہے، تو کیا میں گاؤں میں جب جاؤں گا، اور اپنا گھر کھولے بنا کسی رشتہ دار کے گھر دو سے تین دن رہنا ہو، تو کیا میں وہاں قصر نماز پڑھوں گا یا پوری؟ اور جب میں والدین کے پاس راولپنڈی جاؤں گا، تو وہاں قصر نماز پڑوں گا یا پوری نماز پڑھوں گا؟ جبکہ میرا وہاں بھی دو سے تین دن کا رکنے کا ارادہ ہے، اور میرا سسرال کراچی میں ہے، تو وہاں بھی اگر 15 دن سے کم کا قیام ہو، تو وہاں کون سی نماز پڑھنا ہو گی؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر آپ کی مستقل رہائش اور بیوی بچے منگلہ میں ہیں، اور آپ اپنے آبائی گاؤں اور والدین کے گھر رہائش کو مستقل طور پر ختم کرچکے ہیں، تو ایسی صورت میں آپ کا وطن اصلی اب منگلہ ہے، لہذا اگر آپ اپنے گاؤں، والدین کے گھر جائیں گے اور وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کی نیت ہوگی، تو قصر کریں گے۔
لیکن اگر آپ اپنے آبائی گاؤں سے مستقل طور پر منتقل نہیں ہوئے ہیں اور وہاں دوبارہ رہنے کا ارادہ ہے، تو ایسی صورت آپ کا آبائی گاؤں بھی وطن اصلی رہے گا، وہاں جانے سے آپ مقیم شمار کیے جائیں گے، اسی طرح اگر آپ نے والدین کے گھر سکونت مستقل ختم نہیں کی ہے، صرف جاب کی وجہ سے منگلہ میں رہائش پذیر ہیں، تو ایسی صورت میں والدین کے ہاں جانے سے آپ مقیم ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے۔
سسرال جانے کی صورت میں آپ قصر کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (103/1، ط: دار الكتب العلمية)
مطلب في أن الأوطان ثلاثة (ثم) الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.....، فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير وهو: أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا، حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصير صلاته أربعا.

البحر الرائق: (147/2، ط: دار الكتاب الاسلامى)
والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم.

رد المحتار: (132/2، ط: دار الفكر)
(قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 117

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.