عنوان: کیا مجنون کو وراثت میں حصہ ملے گا؟ نیز اس کے مال پر کون قبضہ کرے گا؟ اور کیا مجنون کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ (9528-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا بھائی نفسیاتی مریض ہے، اسے اپنے نفع ونقصان کا پتہ نہیں چلتا ہے، اس کا والد صاحب کی میراث میں حصہ بنتا ہے، مگر وہ پیسے سنبھالنے کے قابل نہیں ہے، تو اس کے پیسوں کی ادائیگی کا بہتر طریقہ کیا ہوگا؟ نیز کیا دیگر رشتہ دار اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: 1- جس شخص کا دماغی توازن درست نہ ہو، وراثت میں اس کو بھی حصہ ملے گا، لہذا محض اس وجہ سے وہ وراثت سے محروم نہیں ہوگا۔
2- جس شخص کا دماغی توازن درست نہ ہو اور وہ جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہو، تو اس کی خیرخواہی کے پیش نظر اس کے مال وجائیداد کا اختیار اس کے شرعی سرپرستوں کے سپرد ہوتا ہے، چنانچہ وہ سرپرست اس کے مال کی حفاظت بھی کریں گے اور اس میں حسبِ صوابدید مفید تصرف کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔
شریعت کی رو سے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے، ان کی دو قسمیں ہیں:
(1) ولایتِ تصرف: جس میں سرپرست کو اپنے زیر سرپرستی لوگوں کے مال کی حفاظت اور اس میں حسبِ صوابدید تصرف کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
شریعت میں ایسے سرپرستوں کی ترتیب حسب ذیل ہے:
١- والد
٢- والد کا وصی (جسے والد نے اپنی وفات کے بعد اس کے مال کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتے ہوئے وصیت کی ہو)۔
٣- دادا (جب والد کا وصی نہ ہو)۔
٤- دادا کا مقرر کردہ وصی، اگر یہ بھی نہ ہو، تو قاضی یا قاضی کا مقرر کردہ وصی۔
جس شخص کے دماغی توازن میں خلل ہو اور وہ جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہو، تو اس کے مال کی حفاظت اور اس کے اندر مفید تصرف کرنے کے مذکورہ بالا اشخاص بالترتیب مجاز ہوں گے۔
(2) ولایتِ حفظ: جس میں سرپرست کو صرف اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ مجنون کے مال کی حفاظت کرے، لیکن اس کے مال میں کسی قسم کے تصرف مثلاً: تجارت وغیرہ کا اختیار نہیں ہوتا ہے، ہاں! ضرورت پڑنے پر قاضی یا اس مجنون کے نیک اور دین دار قرابت داروں کے مشورے سے اس کے مال میں مفید تصرف کر سکتا ہے۔
یہ "ولایتِ حفظ" ہر ایسے شخص کو حاصل ہوگی، جس کو قاضی مقرر کرے یا مجنون کے دین دار قرابت دار اس کو مقرر کریں۔
جو شخص مجنون کا شرعی سرپرست ہو، خواہ وہ ولایتِ تصرف رکھتا ہو یا ولایتِ حفظ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں وہ مجنون کی طرف سے نائب بن کر اس کو ملنے والے مال پر قبضہ کرے گا، نیز اگر مجنون غیر سید مستحق زکوٰۃ ہو، تو اس کی طرف سے نائب بن کر زکوٰۃ پر بھی قبضہ کرے گا۔
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر آپ کے بھائی کی نفسیاتی حالت ایسی ہو کہ اسے اپنے نفع ونقصان کا پتہ نہ چلتا ہو، نیز اسے اچھے برے کی تمیز ختم ہوگئی ہو، تو ایسی حالت مجنون یا معتوہ (دیوانہ) کی ہوتی ہے، لہذا آپ اپنے بھائی کو ملنے والی وراثت کے حصہ کی حفاظت کر سکتے ہیں، حسب ضرورت اس کے مال کو اس پر خرچ بھی کر سکتے ہیں، اور اگر وہ مستحق زکوٰۃ ہو، تو اس کی طرف سے نائب بن کر زکوٰۃ وصول بھی کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي و من له الولایة، 174/6، ط: سعید)
"وولیه أبوہ ثم وصي الأب ثم الجد أبو الأب ثم وصیه ثم الوالي أو القاضي أووصي القاضي".

السراجی: (ص: 4)
"الموانع من الإرث أربعة:الرق،والقتل،واختلاف الدينين،واختلاف الدارين".

رد المحتار: (450/4)
"قال في التلویح: الجنون اختلال القوة الممیزة بین الأمور الحسنة والقبحة المدرکة للعواقب بأن لا تظہر آثارہا وتتعطل أفعالہا".

الھندیة: (الباب السادس فی الھبة للصغیر، 392/4، ط: رشیدیة)
"الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي".

امداد الفتاویٰ: (177/5)

واللّٰہ تعالى أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 125
kia majnon / majnoon ko wirasat / virasat me / mein / may hisa mile ga?neiz us k / kay maal per kon qabza kare ga? or kia majoon ko zakat de / di jasakti he / hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.