عنوان: بیوی کے شوہر کی جنسی تسکین پوری کرنے سے انکار کرنے پر شوہر کا غیر شرعی راستہ اختیار کرنے کا حکم (9583-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر عورت مرد کو قریب آنے سے منع کردے، اور وہ مرد کسی دوسری عورت سے اپنی شہوت پوری کرے، تو اسکا گناہ کس کے سر ہوگا؟

جواب: شریعت نے جنسی خواہش کی تسکین کے لیے نکاح کو حلال اور عفت والا راستہ متعین کیا ہے، اس حلال راستہ کے علاوہ کسی بھی طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرنا شریعت کی مقررکردہ حدود سے تجاوز کرنے کی وجہ سے حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔
بیوی پر شوہر کی جنسی خواہش کو پورا کرنا واجب ہے اور بغیر شرعی عذر کے اس سے انکار شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو، جیسے ایامِ حیض و نفاس، بیماری، احرام کی حالت، شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا، جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو، یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیے غیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا وغیرہ کی صورت میں بیوی انکار کرسکتی ہے، اور اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔
(سورۃ المومنون:5۔8)
اپنی بیوی سے فطری خواہش پورا کرنے کے بجائے کسی غیر عورت سے خواہش پوری کرنا زنا ہے، جو کہ حرام ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
’’ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں شادی شدہ زنا کار پر لعنت کرتی ہیں اور جہنم میں ایسے لوگوں کی شرم گاہوں سے ایسی سخت بدبو پھیلے گی، جس سے اہلِ جہنم بھی پریشان ہوں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ ان کی رسوائی جہنم میں ہوتی رہے گی‘‘
بیوی کا شوہر کی جنسی تسکین کو پورا کرنے سے انکار کرنے پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
بخاری شریف میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے، تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
مسلم شریف میں ہے:
جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، اور وہ انکار کردے، تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے، یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔
ترمذی شریف میں ہے:
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے، تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگرچہ تنور پر (کھڑی) ہو۔
اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر بیوی کے بغیر عذرِ شرعی کےانکار کرنے پر جنسی تسکین کے لیے کوئی ناجائز راستہ اختیار کرتا ہے، تو شوہر ناجائز راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور بیوی بھی بغیر عذرِ شرعی کے انکار کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگی۔
شوہر کی اگر جنسی شہوت زیادہ ہے، تو اس کا حل شریعت نے یہ بتایا ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کے لیے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنا جائز کیا ہے، بشرطیکہ وہ ان میں عدل و انصاف کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھے، اس لیے کہ روزے شہوت کو کم کر دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 3)
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُواo

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 5193، ط: دار طوق النجاۃ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، لعنتها الملائكة حتى تصبح.

و فیه أیضاً: (رقم الحدیث: 4778)
حدثنا عمر بن حفص حدثنا أبي حدثنا الأعشى قال حدثني إبراهيم عن علقمة قال : كنت مع عبد الله فلقيه عثمان بمنى فقال يا أبا عبد الرحمن إن لي إليك حاجة فخلوا فقال عثمان هل لك يا أبا عبد الرحمن في أن نزوجك بكرا تذكرك ما كنت تعهد ؟ فلما رأى عبد الله أن ليس له حاجة إلى هذا أشار إلي فقال يا علقمة فانتهيت إليه وهو يقول أما لئن قلت ذلك لقد قال لنا النبي صلى الله عليه و سلم يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1436، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:والذي نفسي بيده، ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشها، فتأبى عليه، إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها.

سنن الترمذى: (رقم الحدیث: 1160، ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
عن قيس بن طلق، عن أبيه طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته، وإن كانت على التنور.

مسند البزار: (رقم الحديث: 4431، ط: مكتبة العلوم و الحكم)
’’عن عبد الله بن بريدة عن أبيه رضي الله عنه : إن السماوات السبع و الأرضين السبع و الجبال ليلعن الشيخ الزاني و إن فروج الزناه لتؤذي أهل النار بنتن ريحها.‘‘

بدائع الصنائع: (331/2، ط: دار الکتب العلمیة)
وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم.

شرح النووي على مسلم: (8/10، ط: دار إحياء التراث العربی)
قوله صلى الله عليه وسلم (إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى تصبح وفي رواية حتى ترجع هذا دليل على تحريم امتناعها من فراشه لغير عذر شرعي.

الموسوعة الفقهية الكويتية: (39/44، ط: دار السلاسل)
ذهب الفقهاء إلى أن للزوج أن يطالب زوجته بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب شرعية مانعة منه كالحيض والنفاس والظهار والإحرام ونحو ذلك ، فإن طالبها به وانتفت الموانع الشرعية وجبت عليها الاستجابة. قال ابن تيمية : يجب عليها أن تطيعه إذا طلبها إلى الفراش ، وذلك فرض واجب عليها
وقد عد الذهبي والرافعي والنووي وابن الرفعة والهيتمي وغيرهم امتناع المرأة عن فراش زوجها إذا دعاها بلا عذر شرعي ضربا من النشوز ، وكبيرة من الكبائر ، وذلك لورود الوعيد الشديد فيه.
ومما ورد في ذلك : ما روى أبو هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : " إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فلم تأته ، فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح " . وما ورد عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذاباتت المرأة مهاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى ترجع "وما رواه أبو هريرة رضي الله عنه : قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه ، إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها.
وفيما ذكر من الأحاديث دليل على تحريم امتناع المرأة على زوجها إذا أرادها ، ولا خلاف فيه.
أما الرجل فلا يجب عليه الإجابة إذا دعته المرأة للوطء لأنه لو أجبر الرجال على إجابتهن لعجزوا ، إذ لا تطاوعهم القوى في كل آن على إجابتهن ، ولا يتأتى لهم ذلك في كثير من الأحوال لضعف القوى وعدم الانتشار ، والمرأة يمكنها التمكين في كل وقت وحين . إلا أن يقصد الرجل بالامتناع مضارتها فيحرم عليه ذلك.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 136
biwi / zoja ka shohar / khawand ki jinsi taskeen pori karne se / say inkar karne per / par shohar / khawand ka ghair shari / sharae rasta ikhtiyar karne ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.