عنوان: شوہر کا قسم کھا کر یہ جملہ "میں اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت تک وطی نہیں کروں گا، جب تک وہ تندرست نہ ہوجائے" کہنے سے ایلاء کے ثبوت کا حکم(9717-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کھ کر قسم کھائے کہ "میں اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت تک وطی نہیں کروں گا، جب تک وہ تندرست نہ ہو جائے، کیا یہ ایلاء ہے؟ اگر ہے، تو پھر اس سے رجوع کا طریقہ کیا ہوگا؟ جزاك اللهُ

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت کی ممکنہ دو صورتیں ہیں، جن کی تفصیل بمع حکم ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:
1) پوچھی گئی صورت میں اگر عورت اس قدر بیمار ہو کہ اس کا مدت ایلاء (یعنی قسم کھانے کے دن سے لے کر چار ماہ کی مدت تک) میں اس بیماری سے تندرست ہونا بظاہر ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کا قسم کھا کر یہ جملہ "میں اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت تک وطی نہیں کروں گا، جب تک وہ تندرست نہ ہوجائے" کہنے سے ایلاء کا ثبوت ہوگا۔
جس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ قسم کھانے کے دن سے لے کر چار ماہ کی مدت کے دوران جماع (ازدواجی تعلق) نہیں کرے گا، تو چار ماہ کی مدت کے بعد اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔
لیکن اگر یہ شخص چار ماہ کی مدت کے دوران اپنی بیوی سے جماع کرلیتا ہے، تو اس سے ایلاء کا حکم ساقط ہوجائے گا، البتہ قسم توڑنے کی وجہ سے اس شخص کے ذمہ قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ اگر اس چار ماہ کی مدت کے دوران عورت اس قدر بیمار ہو کہ شوہر اس کے ساتھ جماع کے ذریعے رجوع کرنے پر قادر نہ ہو، تو شوہر کو زبانی رجوع کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا، لہذا اگر شوہر جماع پر قدرت نہ پانے کی صورت میں یوں کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا ہے یا میں نے ایلاء ختم کردیا ہے، تو اس سے بھی ایلاء کا حکم ساقط ہوجائے گا، بشرطیکہ عورت چار ماہ کی مدت میں آخری دن تک بیمار رہے، ایسی صورت میں بیماری کے عذر کی وجہ سے بلا جماع چار ماہ کی مدت گزرنے پر اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ قسم کا حکم برقرار رہے گا، لہذا اگر شوہر نے بیوی کی تندرستی سے قبل ہی بیماری کی حالت میں اس سے جماع کرلیا، تو شوہر پر قسم توڑنے کی وجہ سے کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
2) اور اگر عورت اس قدر بیمار نہ ہو، بلکہ مدت ایلاء میں اس کا تندرست ہونا بظاہر ممکن ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کے مذکورہ بالا جملے سے ایلاء کا حکم ثابت نہ ہوگا، بلکہ یہ محض حالت بیماری میں ہمبستری نہ کرنے پر قسم ہوگی، لہذا اگر شوہر نے بیوی کی تندرستی سے قبل ہی بیماری کی حالت میں اس سے جماع کرلیا، تو شوہر پر قسم توڑنے کی وجہ سے کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا دیدیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں ہے، تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم : (المائدة، الاية: 89)
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ o

و قوله تعاليٰ: (البقرة، الاية: 226- 227)
لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ o وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ o

الهداية: (باب الايلاء، 411/2، ط: رحمانية)
واذا قال الرجل لامرأته: "والله لا أقربك" أو قال: والله لا أقربك أربعة أشهر فهو مول لقوله تعالي: {لِلَّذِیۡنَ یُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَۃِ اَشۡہُرٍ} [البقرة: 226] الآية، "فإن وطئها في الاربعة الاشهر حنث في يمينه ولزمته الكفارة"، لان الكفارة موجب الحنث "وسقط الايلاء" لأن اليمين ترتفع بالحنث "وان لم يقربها حتى مضت أربعة أشهر بانت منه بتطليقة".

بدائع الصنائع: (باب الايلاء، 165/3، ط: دار الكتب العلمية)
وان وقته الى غاية ينظر إن كان المجعول غاية لا يتصور وجوده في مدة الايلاء يكون موليا كما إذا قال وهو في شعبان: والله لا أقربك حتى أصوم المحرم؛ لأنه منع نفسه عن قربانها بما يصلح مانعا؛ لأنه لا يمكنه قربانها إلا بحنث يلزمه وهو الكفارة، ألا ترى أنه لا يتصور وجود الغاية -وهو صوم المحرم- في المدة، وكذلك يعد مانعا في العرف؛ لأنه يحلف به عادة.
وكذا لو قال: والله لا أقربك إلا في مكان كذا، وبينه وبين ذلك المكان أربعة أشهر فصاعدا يكون موليا؛ لأنه لا يمكنه قربانها من غير حنث يلزمه، وإن كان أقل من ذلك لم يكن موليا لامكان القربان من غير شيء يلزمه.
وكذا لو قال: والله لا أقربك حتى تفطمي صبيك، وبينها وبين الفطام أربعة أشهر فصاعدا يكون موليا، وأن كان أقل من ذلك لم يكن موليا لما قلنا.

مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: (445/3، ط: دار إحياء التراث العربي)
(وان عجز المولي عن وطئها بمرضه) الباء للسببية (أو مرضها أو رتقها أو صغرها أو جبه) أو كان أسيرا في دار الحرب أو لكونها ممتنعة.... (أو لأن بينها وبينه مسافة أربعة أشهر) لا يقدر على قطعها في مدة الايلاء فإن قدر لا يصح فيؤه باللسان (ففيؤه) أي رجوع الزوج عن الايلاء (أن يقول: فئت اليها) أو رجعت عما قلت أو راجعتها أو ارتجعتها أو أبطلت إيلاءها وعند الشافعي لا يصح فيه الفيء إلا بالجماع واليه ذهب الطحاوي من أصحابنا (إن استمر العذر من وقت الحلف الى آخر المدة) فلو آلي منها قادرا ثم عجز وكان عاجزا حين آلي وزال العجز في المدة لا يصح فيؤه باللسان لاشتراط العجز المستوعب للمدة في الاكتفاء بالحلف، ولو قربها بعد الفيء باللسان لزمته الكفارة لبقاء اليمين في حق الحنث وإن بطلت في حق الطلاق... (فلو) زال العجز (في المدة) أي مدة الايلاء (تعين الفيء بالوطء) لكونه خلفا عنه فاذا قدر على الأصل قبل حصول المقصود بالبدل بطل كالمتيمم اذا قدر على الماء خلال الصلاة وقيد بالمدة؛ لأنه لو قدر عليه بعدها لا يبطل.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.