عنوان: کنونشنل بینک (Conventional bank) کے سیونگ اکاؤنٹ (Saving account) کے سود کا حکم، نیز غریبوں کی مدد کرنے کی نیت سے کنونشنل بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا (9733-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک خاتون ہیں، جن کے conventional bank میں رکھے ہوئے پیسوں پر کچھ منافع یعنی سود آیا، اسے لینے کی ان کی نیت نہیں تھی، اور نہ وہ یہ جانتی تھیں کہ یہ conventional bank میں ان کا saving account ہے، لیکن جب ان کو معلوم ہوا، تو اس خاتون نے ان پیسوں کو بغیر ثواب کی نیت کے اپنے کچھ رشتہ داروں میں چیزوں کی صورت میں تقسیم کردیا، ان رشتہ داروں میں سے کچھ ضرورت مند تھے، آپ سے رہنمائی چاہیے کہ کیا شرعی طور پر یہ عمل درست تھا یا نہیں؟ اور اس خاتون کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بھی ایسے پیسے آگئے، تو وہ اسی طرح کسی کو دے دیں گی، کیا conventional bank میں saving accuont رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ کنونشنل بینک (Conventional bank) کے سیونگ اکاؤنٹ (Saving account) میں رقم رکھنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کسی نے لاعلمی کی وجہ سے رقم رکھ دی ہو، تو اسے فوراً نکال کر کرنٹ اکاؤنٹ (Current account) میں یا غیر کنونشنل بینک میں رکھ دیں، اور اب تک جو سود بینک میں اصل رقم پر جمع ہوا ہے، اس کو وصول ہی نہ کریں اور اگر سودی رقم وصول کر لی ہو، تو ثواب کی نیت کے بغیر غرباء وفقراء میں تقسیم کردیں، چاہے اپنے مستحق قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس نیت سے کنونشنل بینک سے سودی رقم حاصل کرنا کہ اس سے غریبوں کا تعاون اور مدد کریں گے، شرعاً جائز نہیں ہے، ایسے لوگ حرام کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوتے ہیں، یہ بڑی نادانی ہے کہ انسان اپنا دینی نقصان کرکے دوسروں کا بھلا کرے اور دوسروں کے دنیوی فائدے کے لیے اپنی آخرت برباد کرے۔
پوچھی گئی صورت میں جو سودی رقم بینک سے وصول کر چکی ہیں، وہ اگر بینک میں واپس پہنچانا ممکن ہو، تو بینک میں واپس پہنچانے کی کوشش کریں اور اگر بینک میں واپس پہنچانا ممکن نہ ہو، تو پھر وہ رقم غرباء و فقراء میں بغیر ثواب کی نیت کے تقسیم کردیں، اور فوراً سودی اکاؤنٹ ختم کردیں، اور آئندہ سودی رقم نکالنے سے احتراز کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 78- 79)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَo

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 4093)
عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء.

رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.

معارف السنن شرحِ جامع الترمذي: (أبواب الطهارة، مسئلة فاقد الطهرین، 34/1، ط: سعید)
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء.
قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة."

ردالمحتار: (كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، مطلب في التصدق من مال الحرام، 292/2، ط: دار الفکر)
"رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر، ولو علم الفقير بذالك فدعا له و أمّن المعطي كفرا جميعاّ و نظمه في الوهبانيّة وفي شرحها: ينبغي أن يكون كذالك لو كان الموئمنا أجنبيّا غير المعطي والقابض و كثير من الناس عنه غافلون ومن الجهّال فيه واقعون ، قلتُ :الدفع اِلى الفقير غيرقيد بل مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجداّ و نحوه ممّا يرجو به التقرّب لانّ العلّة رجاء الثوب فيما فيه العقاب ولا يكون ذالك إلّا باعتقاد حله."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 36
Conventional bank k / kay Saving account k / kay sood / sod ka hokom / hokum.neiz gharibo ki madad karne ki niat / naiyat se / say Conventional bank me / may / mein Saving account kholna?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.