resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بھتیجے، بھتیجیوں، چچا زاد بھائی اور دادا کے پوتوں میں میراث کی تقسیم (9765-No)

سوال: ایک عورت کا انتقال ہوا جس کی کوئی اولاد نہیں تھی، شوہر، والدین، بہن اور بھائیوں کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوگیا تھا، مرحومہ کے بھائیوں کی اولاد (لڑکے اور لڑکیاں) اور بہنوں کی اولاد موجود ہیں، اور مرحومہ کے دادا کے پوتے اور چچازاد بھائی بھی زندہ ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحومہ کی میراث میں سے دادا کے پوتے، چچازاد بھائیوں یا بھتیجوں میں سے کس کو ملے گی؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مرحومہ کا کوئی اور شرعی وارث نہ ہو، تو مرحومہ کی جائیداد صرف بھتیجوں کو ملے گی، بھتیجوں کی موجود ہوتے ہوئے بھتیجیوں، دادا کے پوتوں اور چچا زاد بھائیوں کو مرحومہ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (774/6، ط: سعید)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.

و فیه ایضاً: (783/6- 784، ط: سعید)
"إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب".

الفتاوي الهندية: (451/6، ط: دار الفکر)
'' وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم، وهم أربعة أيضاً: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين''.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

bhatije ,bhatijio, chacha zad bhai or dada k potoo me / mein meras ki taqseem

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster