عنوان: سنن الدارمی کى سنگریزوں سے تکبیر، تہلیل اور تسبیح شمار کرنے سے متعلق حدیث نمبر (210) کا ترجمہ اور مختصر تشریح (9798-No)

سوال: سنن الدارمی، رقم الحدیث: 210 کی مندرجہ ذیل حدیث کا ترجمہ اور وضاحت فرمادیں:
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَإِذَا خَرَجَ، مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا: لَا، بَعْدُ. فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْكَرْتُهُ وَلَمْ أَرَ - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ - إِلَّا خَيْرًا. [ص:287] قَالَ: فَمَا هُوَ؟ فَقَالَ: إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ. قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَوْمًا حِلَقًا جُلُوسًا يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ، وَفِي أَيْدِيهِمْ حصًا، فَيَقُولُ: كَبِّرُوا مِائَةً، فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً، فَيَقُولُ: هَلِّلُوا مِائَةً، فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً، وَيَقُولُ: سَبِّحُوا مِائَةً، فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً، قَالَ: فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئًا انْتِظَارَ رَأْيِكَ أَوِ انْتظارَ أَمْرِكَ. قَالَ: «أَفَلَا أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ، وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ»، ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِنْ تِلْكَ الْحِلَقِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حصًا نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ. قَالَ: «فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ». قَالُوا: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ. قَالَ: «وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ» قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ "، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ، ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ. فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ: رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ.

جواب: سوال میں پوچھی گئی سنن الدارمی کى حدیث نمبر (210) کا ترجمہ اور مختصر تشریح
ترجمہ:
عُمارۃ بن ابی حسن المازنی فرماتے ہیں کہ ہم نمازِ فجر سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے (گھر کے) دروازے پر بیٹھتے تھے، جب آپ گھر سے نکلتے تو ہم آپ کے ساتھ مسجد جاتے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اب تک ابو عبدالرحمن (یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں آئے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے نکلنے تک ہمارے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔ جب آپ نکلے، تو ہم سب آپ کی طرف اٹھے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمن! میں نے مسجد میں ابھی ایک بات دیکھی، جس کو میں نے اوپرا پایا، ویسے تو الحمدللہ خیر ہی کو دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہے؟ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر زندگی نے وفا کی، تو عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے، اور وہ یہ کہ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو مختلف حلقوں میں نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے دیکھا، ہر حلقے میں ایک آدمی ہے، لوگوں کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں، وہ آدمی کہتا ہے: سو مرتبہ ”اللہ اکبر“ پڑھو، تو لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: سو مرتبہ ”لا الہ الا اللہ“ پڑھو، تو لوگ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے کہ سو مرتبہ ”سبحان اللہ“ پڑھو، تو لوگ سو مرتبہ سبحان اللہ پڑھتے ہیں۔
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر آپ نے ان سے کیا کہا؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ان سے آپ کی رائے کے انتظار میں راوی کہتا ہے کہ یا یہ فرمایا کہ آپ کے حکم کے انتظار میں کچھ نہیں کہا۔ عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ان کو یہ حکم دیتے کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور ان کو ضمانت دیتے کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہیں ہوگا (یعنی ان اذکار کو شمار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آدمی جو ذکر کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اس پر وہ اجر دیں گے، وہ ذکر اور نیکی ضائع نہیں ہوگی) پھر حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (مسجد کی جانب) چلے گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ ہولیے، یہاں تک کہ ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، اور ان سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا چیز ہے، جو میں تم کو کرتے ہوئے پا رہا ہوں؟ انھوں نے جواب دیا کہ اے ابوعبدالرحمن! ہم ان سنگریزوں سے تکبیر، تہلیل اور تسبیح شمار کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: بجائے اس کے تم اپنے اپنے گناہ شمار کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ (اگر ان اذکار کو شمار نہ کرو، تو) تمہاری نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہیں ہوگا۔ اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم پر افسوس! تمہاری ہلاکت کس قدر جلد آگئی، ابھی یہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان بکثرت موجود ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ کے برتن نہیں ٹوٹے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور تم ابھی سے بدعتوں میں مشغول ہوگئے ہو) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یا تو تم ایک ایسے دین پر ہو، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے (نعوذ باللہ) زیادہ درستگی پر ہے، یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا: اے ابوعبدالرحمن! اللہ کی قسم! ہم اس عمل سے نیکی ہی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بہت سے نیکی کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں کہ انھیں ہرگز نیکی حاصل نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ "کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر قرآن ان کی ہنسلیوں (گلے کے نیچے) سے تجاوز نہیں کرے گا"۔ اللہ کی قسم! یقینی طور میں نہیں جانتا، ہوسکتا ہے اس حدیث کا مصداق تم لوگوں میں سے اکثر وہی ہوں۔ یہ فرما کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے چلے گئے۔ عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان حلقے والوں میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ جنگِ نہروان میں خوارج کے ساتھ مل کر ہم لوگوں پر برچھے مارتے تھے۔
(سنن الدارمی: باب في کراہیة أخذ الرأي، 1/ 286، رقم الحديث: (210)، ط: دار المغني للنشر والتوزيع)
تشريح:
"ذکر اللہ" اللہ تعالیٰ کے قرب و رضاء اور انسان کی روحانی ترقی كا مؤثر ترين ذريعہ ہے، قرآن کریم کى متعدد آیات ذکر اللہ کى کثرت کرنے کى ترغیب میں آئى ہیں، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے قول وعمل سے ذکر اللہ کی ترغیب و تلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "لایزال لسانک رطبا من ذکر اللّٰہ" ترجمہ: ("تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تررہے"۔) (صحیح ابن حبان : حدیث نمبر : 811)۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کى خدمت میں عرض کیا: اعمال میں سے کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "أن تموت ولسانک رطب من ذکر اللّٰہ" ترجمہ: (تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو) (صحیح ابن حبان: حدیث:815).
نيز تسبیح، تقدیس اور ذکر اللہ کے بعض کلمات سے متعلق ان خاص مقدار و تعداد کا ذکر احادیث مبارکہ میں کثرت سے آیا ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص روزانہ ”سبحان اللہ و بحمدہ“ سو مرتبہ کہے، تو اس کی لغزشیں معاف کردی جائیں گی، اگرچہ وہ لغزشیں سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں"۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6405)
جب احادیث مبارکہ میں مختلف اذکار کى تعداد بیان فرما کر ان کى فضیلت بیان کى گئى ہے، تو اس سے خود بخود یہ بات ثابت ہوتى ہے کہ ذکر و تسبیح کرتے ہوئے اسے شمار کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کے اپنے عمل سے ایسی تسبیحاتِ اذکار کو انگلیوں پر شمار کرنا بھى ثابت ہے، جسے "عقد انامل " کہا جاتا ہے، چنانچہ سنن ابى داود کى روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تسبیح شمار فرمارہے تھے۔
(سنن ابی داود: حدیث نمبر: 1502)
الغرض آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل سے تسبیحاتِ اذکار کو شمار کرنا تو مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہوگیا ہے، اسى طرح آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کى "تقریر"(یعنی صحابہ کرام نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئى عمل کیا ہو اور آپ نے اس پر نکیر نہ فرمائى ہو) سے گٹھلیوں پر تسبیح پڑھنا ثابت ہے، اس سلسلے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کى روایت قابل ملاحظہ ہے، حضرت سعد بن ابى وقاص رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ وہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک خاتون کے پاس پہنچے، تو دیکھا کہ اس خاتون کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا سنگریزے تھے، وہ ان گٹھلیوں یا کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم کو وہ نہ بتادوں، جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا فرمایا کہ اس سے افضل ہے، پھر آپ نے فرمایا: (کہ تم اس طرح کہو:) "سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی السماء و سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی الارض وسبحان اللّٰہ عدد ما بین ذلک و سبحان اللّٰہ عدد ما ہو خالق"، اس کے بعد "اللہ اکبر" کہہ کر پھر اسی طرح پڑھو، ("اللہ اکبر عدد ما خلق فی السماء واللہ اکبر عدد ما خلق فی الارض ․․․") اس کے بعد "الحمد للہ" پھر اسی طرح، "لا الہ الا اللہ" اسی طرح اور "لاحول و لاقوة الا باللہ" اسی طرح۔
(سنن ابى داود: حدیث نمبر: 1500)
اسى طرح کتبِ سیر وتراجم میں صحابہ کرام اور تابعین کے تذکرے میں یہ بات ملتى ہے کہ وہ گٹھلیوں پر تسبیح کیا کرتے تھے، چونکہ اس زمانے میں دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کا رواج نہیں تھا، اس لیے منتشر طور پر گٹھلیوں وغیرہ پر ان کا تسبیحات پڑھنے کا معمول تھا، لہذا موجودہ دور میں مروجہ دھاگوں میں پروئى ہوئى تسبیح پر ذکر کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
علامہ شوکانى رحمہ اللہ نے "نیل الاوطار" ج 2، ص 316 میں اس بات کى صراحت فرمائى ہے کہ حضرت سعد بن ابى وقاص رضى اللہ عنہ کى اس حدیث سے اس بات کا جواز معلوم ہوتا ہے کہ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھنا جائز ہے، کیوں کہ اس پر آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کى تقریر موجود ہے۔
اسى طرح شیخ عبد الرحمن مبارکپورى رحمہ اللہ نے "تحفۃ الاحوذى" ج 9، ص 322 اور صاحبِ "عون المعبود" نے ج 4، ص 269 میں گٹھلیوں پر تسبیح پڑھنے کا جواز نقل فرمایا ہے۔
چونکہ تسبیح بذاتِ خود مقصود نہیں ہے، بلکہ وہ تو ذکر اللہ اور تسبیح کے کلمات کو شمار کرنے کا ذریعہ ہے، ظاہر ہے کہ ذکر وتسبیح کى تعداد کو گننے کے لیے کوئی تو ذریعہ اختیار کیا جائے گا، خواہ اُنگلیوں پر گنا جائے یا کنکریوں پر یا گٹھلیوں پر یا پھر دھاگے میں پروئی ہوئی تسبیح پر، لہذا جو بھى ذریعہ اختیار کیا جائے گا، وہ بہرحال مقصود شرعى کے حصول کا صرف ذریعہ ہوگا اور جو چیز کسی مطلوبِ شرعی کا ذریعہ ہو، وہ بدعت نہیں کہلاتى ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تسبیح کرنے والوں پر کیوں نکیر فرمائى تھی؟ اس کے دو جواب دیے گئے ہیں، ایک یہ کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تسبیح اور ذکر الله کو شمار کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، ان کا یہ ایک عاشقانہ طرز تھا کہ وہ یہ فرماتے تھے کہ تسبیح کو شمار کرنا گویا اللّٰہ تعالیٰ پر اپنی نیکیوں کا احسان جتانا ہے، دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تسبیح کو شمار کرنے پر نکیر نہیں فرمائى تھى، بلکہ مسجد میں اس طرح کا حلقہ جما کر اجتماعى شکل میں تسبیحات کو شمار کرنے پر تنبیہ فرمائى تھى، تاکہ آئندہ اس عمل میں مزید اضافہ ہو کر کوئى بدعت کى صورت نہ بن جائے، تو اس کے سد باب کے لیے نکیر فرمائى تھى۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الدارمي: (باب في کراهیة أخذ الرأي، رقم الحديث: 210، 286/1، ط: دار المغني للنشر و التوزيع)
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَإِذَا خَرَجَ، مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا: لَا، بَعْدُ. فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْكَرْتُهُ وَلَمْ أَرَ - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ - إِلَّا خَيْرًا. قَالَ: فَمَا هُوَ؟ فَقَالَ: إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ. قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَوْمًا حِلَقًا جُلُوسًا يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ، وَفِي أَيْدِيهِمْ حصًا، فَيَقُولُ: كَبِّرُوا مِائَةً، فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً، فَيَقُولُ: هَلِّلُوا مِائَةً، فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً، وَيَقُولُ: سَبِّحُوا مِائَةً، فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً، قَالَ: فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئًا انْتِظَارَ رَأْيِكَ أَوِ انْتظارَ أَمْرِكَ. قَالَ: «أَفَلَا أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ، وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ»، ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِنْ تِلْكَ الْحِلَقِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حصًا نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ. قَالَ: «فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ». قَالُوا: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ. قَالَ: «وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ» قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ "، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ، ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ. فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ: رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ.

مصنف ابن أبي شيبة: (من كره عقد التسبيح، رقم الحديث: 7749، 219/5، ط: دار القبلة)
حدثنا أبو معاوية ، عن الأعمش ، عن إبراهيم ، قال : كان عبد الله يكره العدد ويقول : أيمن على الله حسناته؟

(مستفاد از "دھاگے دانوں کی مروجہ تسبیح کی شرعی حیثیت، مؤلفه مفتی عمر فاروق لوهاری، ماہنامه دار العلوم، شمارہ 12، جلد 91، ذو الحجة 1428 هجری، مطابق دسمبر 2007ء)

کذا فی فتاوي بنوري تاؤن: رقم الفتوي: 144008202071

والله تعالى أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،كراچى

Print Full Screen Views: 56
sunan aldarmi ki sangrezo / sangrezon se / say takbeer,tehleel or tasbeeh shumar karne se / say mutaliq hadis number 210 ka tarjama or mukhtasar tashreeh.

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.