عنوان: تین بیٹیوں، دو بھائی اور دو بہنوں میں میراث کی تقسیم(9812-No)

سوال: السلام علیکم ! ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، اس کی صرف تین بیٹیاں،دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، اس کی وراثت کے حقدار کون کون ہوں گے؟

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ اٹھارہ (18) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر ایک بیٹی کو چار (4)، ہر ایک بھائی کو دو (2) اور ہر ایک بہن کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے ہر ایک بیٹی کو %22.22، ہر ایک بھائی کو %11.11 اور ہر ایک بہن کو %5.55 فیصد ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌ ۚ ....الخ

و قوله تعالي: (النساء، الایة: 176)
وَ اِنْ کَانُوْآ اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآئً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ....الخ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.