عنوان: حج ادا کرنے کے بعد حاجی کی دعائے مغفرت ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے۔ اس بارے میں احادیث کی تحقیق وتخریج(9819-No)

سوال: سنا ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حاجی کی دعا ربیع الاول تک قبول ہوتی ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: واضح رہے کہ حج ادا کرنے کے بعد حاجی کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے اس کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے، اس دعا کرنے اور اس کے قبول ہونے کی مدت ربیع الاول تک ہے، اس بارے میں تین حدیثوں میں صراحت آئی ہے، وہ تین حدیثیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے (موقوفا بحکم مرفوع) اور حضرت معاویۃ بن اسحاق القرشى رحمہ اللہ سے اور حضرت علقمۃ بن مرثد رحمہ اللّٰہ سے (مرسلا) مروى ہیں، ذیل میں ان تینوں حدیثوں کو ذکر کیا جاتا ہے:
1-حدیث ِعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ:
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: حاجى کى مغفرت کى جاتى ہے اور اس کى بھى مغفرت کى جاتى ہے جس کے لیے حاجى مغفرت کی دعا کرے، ذوالحجہ کے بقیہ ایام، محرم، صفر اور ربیع الاول کے ابتدائى دس دنوں تک۔
(یعنی حاجی کے مغفرت کی دعا کرنے اور اس کے قبول ہونے کی مدت بقیہ ذی الحجہ، محرم، صفر اور ربیع الاول کے ابتدائی دس دنوں تک ہوتی ہے)۔
تخریج الحدیث:
1- اس حدیث کو امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ متوفى 228ھ کى مسند کے حوالے سے انہى کى سند سے حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ متوفى 852ھ نے اپنى کتاب "المطالب العالیۃ" 102/7، حدیث نمبر: (1291) مطبوعہ: دار العاصمۃ میں نقل فرمایا ہے۔
2- اسى طرح اس حدیث کو امام ابن ابی شیبۃ رحمہ اللہ متوفى 235ھ نے اپنى کتاب "المصنف" 29/8، حدیث نمبر (12800) میں اپنى سند سے نقل فرمایا ہے۔
حدیث کى اسنادى حیثیت:
اس حدیث کو حافظ بوصیرى رحمہ اللہ متوفى 840ھ نے اپنى کتاب "إتحاف الخیرۃ المہرۃ" 265/3، حدیث نمبر (2713) میں امام مسدد رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کر کے فرمایا ہے: اس حدیث کى سند میں راوى "لیث بن أبی سلیم" ہیں، جمہور ان کے ضیعف ہونے پر متفق ہیں۔
اسی طرح حافظ سخاوى رحمہ اللہ متوفى902ھ نے اس حدیث کو اپنى کتاب "المقاصد الحسنۃ" ص 478، حدیث نمبر: (1347) میں نقل کر کے فرمایا ہے: یہ حدیث "لیث بن ابی سلیم" سے مروى ہے، جو کہ ضعیف ہیں، وہ اس حدیث کو "مہاجر بن عمرو الشامی" سے روایت کرتے ہیں، جبکہ میرے گمان کے مطابق ان دونوں راویوں کے درمیان انقطاع ہے۔
حدیث عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ حکما مرفوع ہے:
حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کى یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن حافظ سخاوى رحمہ اللہ متوفى 902ھ نے "المقاصد الحسنۃ" ص 478، حدیث نمبر: (1347) اور اپنى کتاب "الأجوبة المرضية" (3/ 1043، رقم المسألة: (291)، ط: دار الراية) نے ایک جواب کے ذیل میں اس حدیث کے متعلق فرمایا ہے: حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کى حدیث میں فضیلت کے یہ الفاظ کوئی شخص اپنی ذاتى رائے سے نہیں کہہ سکتا ہے، (چنانچہ قوی امکان یہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے فضیلت کے یہ الفاظ آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کى زبان مبارک سے سنے ہوں گے اور انہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کیے بغیر نقل فرما دیے ہوں)، لہذا اس اعتبار سے یہ موقوف روایت، مرفوع روایت کے حکم میں ہوگی۔
اسى طرح علامہ محمد بن علان الصدیقى الشافعی رحمہ اللہ متوفى 1057ھ نے اپنى کتاب "الفتوحات الربانیة" 177/5 میں امام سیوطى رحمہ اللہ متوفى 911ھ کے حوالے سے ان کا اس حدیث کے متعلق یہ قول نقل فرمایا ہے: یہ حدیث باوجود موقوف ہونے کے مرفوع کے حکم میں ہے، کیوں کہ اس طرح کى فضیلت والے الفاظ کوئی شخص اپنى رائے سے بیان نہیں کر سکتا ہے۔
2- حدیث معاویۃ بن اسحاق القرشی رحمہ اللہ (مرسلا):
حضرت معاویۃ بن اسحاق القرشی رحمہ اللہ نبى اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کى طرف منسوب کر کے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حاجى کى مغفرت کى جاتى ہے اور حاجى جس کے لیے مغفرت کى دعا مانگے اس کى بھى مغفرت کى جاتى ہے، محرم الحرام کے ختم ہونے تک ہے"۔ (یعنی حاجی کے مغفرت کی دعا کرنے اور اس کے قبول ہونے کی مدت محرم الحرام کے اختتام تک ہوتی ہے۔)
تخریج الحدیث:
1- اس حدیث کو مسند امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ متوفى 150ھ بروایت حارثی متوفى 340ھ میں576/2، حدیث نمبر: (932) مطبوعہ: المکتبۃ الإمدادیۃ میں روایت کیا گیا ہے۔
2- اس حدیث کو ابو عبد اللہ محمد بن إسحاق الفاکہى رحمہ اللہ متوفى 272ھ نے اپنى کتاب "أخبار مکة" میں اپنى سند سے نقل فرمایا ہے۔
حدیث کى اسنادى حیثیت:
اس حديث پر محدثین کی طرف سے کوئى کلام نہیں کیا گیا ہے۔
3- حدیث علقمۃ بن مرثد رحمہ اللہ متوفى120ھ (مرسلا)
حضرت علقمہ بن مرثد رحمہ اللہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کى طرف نسبت کر کے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حاجى کى مغفرت ہوتى ہے اور جس کے لیے حاجى مغفرت کى دعا کرے، اس کى بھى مغفرت ہوتى ہے محرم الحرام کے ختم ہونے تک"۔
(یعنی حاجی کے مغفرت کی دعا کرنے اور اس کے قبول ہونے کی مدت محرم الحرام کے اختتام تک ہوتی ہے)۔
تخريج الحديث:
اس حدیث کو مسند امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ متوفى 150ھ، میں بروایت قاضى امام صدر الدین موسى بن زکریا الحصکفی رحمہ اللہ متوفى 650ھ ، (مطبوعہ: مکتبۃ البشرى پاکستان) میں نقل کیا گیا ہے۔
حدیث کى اسنادى حیثیت:
اس حدیث پر محدثین کی طرف سے کوئى کلام نہیں کیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا تین احادیث کا بنیادی مضمون دیگر احادیث میں بھی وارد ہوا ہے، جن میں حاجی اور جن کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے ان دونوں کی مغفرت ہونے کا مطلقا ذکر آیا ہے، ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے۔
1-حدیث ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ:
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حاجى کی مغفرت کى جاتى ہے اور جس کے لیے حاجى مغفرت کى دعا کرے اس کى بھى مغفرت کى جاتى ہے".
مسند البزار: حدیث نمبر: (9726)
2-حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروى ہے کہ رسو اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تم حاجى سے ملاقات کرو تو اس کو سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو اور اس کو گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس سے یہ درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت کى دعا کرے، کیوں کہ وہ مغفرت یافتہ ہوتا ہے"۔
مسند احمد: حدیث نمبر: (5371)
3- حدیث مجاہد بن جبر المکی رحمہ اللہ (مرسلا)
حضرت مجاہد بن جبر المکى رحمہ اللہ سے مرسلا مروى ہے کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے اللہ حاجى کى مغفرت فرما اور اس کى بھى مغفرت فرما جس کے لیے حاجى مغفرت کى دعا کرے"۔
مصنف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر: (12801)
خلاصہ بحث:
محدثین کى صراحت کے مطابق حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کى روایت باوجود موقوف ہونے کے مرفوع روایت کے حکم میں ہے، اگرچہ اس حدیث کی سند میں ایک روای "لیث بن ابی سلیم" ضعیف ہے۔
نیز حدیث عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مضمون کے دو شاھد مرسل روایات بھی ہیں، جن کے کسی راوی سے متعلق کوئی کلام نہیں کیا گیا ہے، مزید یہ کہ مدت کی تعیین کے بغیر حاجی کی مغفرت اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے، اس کی مغفرت ہونا، اس مضمون کی تین روایات بطور شاھد کے موجود ہیں، چنانچہ حاجی کی مغفرت کی دعا والی وہ حدیث جس میں مدت کی تعیین کی گئی ہے، وہ حدیث آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، لہذا اس حدیث کی سند میں موجود ضعیف راوی کی صراحت کے ساتھ اسے بیان کرنے کی اجازت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تخریج الأحادیث و حکم أسانیدھا:

حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه:
مسند مسدد كما في المطالب العالية للحافظ: (كتاب الحج، باب مشروعية ملاقاة الحاج و التبشير بسلامته، رقم الحديث: 1291، 102/7، ط: دار العاصمة)

قَالَ مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُليم، عَنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يُغْفَرُ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمَ، وصَفَرًا، وَعَشْرًا مِنْ رَبِيعِ الأَوَّلِ.
وأخرجه ابن أبي شيبة في "المصنف" (كتاب الحج، ما قالوا في ثواب الحج، 29/8، رقم الحديث: 12800، ط: دار القبلة) من طريق عبد السلام بن حرب، عن ليث، به.

والحديث ذكره البوصيري في «الإتحاف» 265/3، (2713) وقال: رواه مسدد، وفي سنده ليث بن أبي سليم، والجمهور على تضعيفه.
وذكره الحافظ السخاوي في "المقاصد الحسنة" (ص: 478 (1347)، ط: دار الكتب العلمية)، وعزاه لمسدد وأبي الشيخ في "الثواب"، عن عمر، به، وقال: وهو من رواية ليث بن أبي سليم - وهو ضعيف - عن المهاجر بن عمرو الشامي عن عمر وهو - فيما أظن - منقطع، ويشهد له ما جاء عن يوسف بن أسباط عن ياسين الزيات - وهو ضعيف - أنه قال: يغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج في ذي الحجة والمحرم وصفر وعشرين من ربيع، أورده الدينوري في الجزء الثامن عشر من مجالسته، ومثله لا يقال رأيا فحكمه - إن ثبت – الرفع.
قال الحافظ في "الأجوب المرضية" (1043/3، رقم المسألة: (291)، ط: دار الراية)
مسألة: هل ورد تعيين أمد للمغفرة للحاج؟
فالجواب: الثابت، الإطلاق، كحديث: "يغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج" وفي لفظ: "اللهم اغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج" وفي حديث آخر: "إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه" ومرة: "إن يستغفر لك قبل أنيدخل بيته فإنه مغفور له" وفي إيرادها وما يشبهها طول، ولكن عند مسدد في مسنده وأبي الشيخ وغيرهما بسند فيه ضعف عن عمر رضي الله عنه أنه قال: "يغفر للحاج ولمن يستغفر له الحاج بقية ذي الحجة، والمحرم، وصفر، وعشرا من ربيع" وعند الدينوري في الثان عشر من مجالسته من جهة ياسين الزيات أنه قال: يغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج من ذي الحجة والمحرم وصفر، وعشرين من ربيع. ولا يثبت في المرفوع من ذلك شيء، مع أن أحد هذين الأثرين يتقوى بالآخر لو تواردا على لفظ واحد، ويقال حينئذ: إن هذا في حكم المرفوع، لكون الرأي لا مجال له فيه، ثم يتكلف لحكمه. والله المستعان.
وقال الحافظ السيوطي كما في «الفتوحات الربانية» (٥/ ١٧٧): هذا موقوف له حكم الرفع لأن مثله لا يقال من قبل الرأي. فإن قلت روى أحمد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه ومره أن يستغفر لك قبل أن يدخل بيته فإنه مغفور له" وهو يقتضي أن ما ذكره مغيًا برجوعه إلى بلده ودخوله بيته فينافي حديث عمر، قلت: قال ابن حجر في شرح المشكاة: إن الظاهر أن التقييد به إنما هو لزيادة الأفضلية لأن دخول البيت مظنة للاشتغال والخروج من كمالات الحاج التي كان عليها قبل، وأيضًا ما دام لم يدخله هو من وفد الله تعالى القادمين إلى أهلهم فإكرامه مستحب اه. وقيل في الجمع بينهما بأن مدة سفر الحاج لا تزيد غالبًا على ما ذكر في حديث عمر أي فلا يكون للقيد مفهوم والله أعلم، ويمكن أن يقال بل الأولى الأخذ بحديث حتى يدخل بيته لشموله لمن كان سيره بقدر ما جاء عن عمر ولمن زاد عنه كالبلدان الشاسعة كالغرب وأقصى الشرق وغير ذلك ولمن كان دون ذلك ولعل عمر اقتصر على تلك المدة لأن البلد التي فتحت في عصره لا تزيد مسافة الوصول إليها غالبًا على ذلك وكلامه - صلى الله عليه وسلم - شامل له ولجميع ما فتح بعد طالت المسافة إليه أو قصرت.

شاهده من حديث معاوية بن إسحاق القرشي رحمه الله (مرسلا):
مسند أبي حنيفة رواية الحارثي: (رقم الحديث: 932، 576/2، ط: المكتبة الإمدادية)

أخبرنا محمد بن الحسن البزاز البلخي، أخبرنا بشر بن الوليد، أنبأ أبو يوسف، عن أبي حنيفة، عن حماد، عن شيخ من بني ربيعة، عن معاوية بن إسحاق القرشي، عن النبي ﷺ أنه قال: «الحَاجُّ مَغْفُورٌ لَهُ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ إِلَى انْسِلَاخِ المُحَرَّمِ».
وقال السخاوي في «الأجوبة المرضية» 62/1: «وفي الديلمي بلا سند مما لم يقف عليه ولده، ولا شيخنا، وهو ركيك لفظًا ومعنى، عن علي رفعه: «يُغْفَرُ لِلْحَاجِّ، وَلِأَهْلِ بَيْتِ الحَاجِّ، وَلِقَرَابَةِ الحَاجِّ، وَلِعَشِيرَةِ الحَاجِّ، وَلِمَنْ شَيَّعَ الحَاجَّ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الحَاجُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، عِشْرُونَ بَقِينَ مِنْ ذِي الحِجَّةِ، وَالمُحَرَّمُ، وَصَفَرٌ، وَرَبِيعٌ الأَوَّلُ، وَعَشْرٌ مِنْ رَبِيعٍ الآخَرِ». والعلم عند الله تعالى». وقال في «المقاصد» ص: 479: «فليس عليه رونق ألفاظ النبوة، بل هو ركيك لفظا ومعنى، كما بينته في بعض الأجوبة».

أخبار مكة للفاكهي: (ذكر المغفرة للحاج و لمن استغفر له الحاج، رقم الحديث: 923، 425/1، ط: دار خضر- بيروت)
حدثنا حسين بن حسن قال: أنا الفضل بن موسى، عن شيخ له، عن معاوية بن إسحاق قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الحاج يغفر له، ولمن استغفر له الحاج إلى انسلاخ المحرم".

الآثار لأبي يوسف: (كتاب المناسك و الحج، الحاج مغفور له و لمن استغفر له، رقم الحديث: 518، ص: 110، ط: دار الكتب العلمية)
قال: حدثنا يوسف عن أبيه عن أبي حنيفة، عن شيخ من بني ربيعة، عن معاوية بن إسحاق القرشي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الحاج مغفور له ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم».

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي: (رقم الحديث: 220، ص: 326، ط: مكتبة البشري، باكستان)
أبو حنيفة، عن علقمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «الحاج مغفور له، ولمن استغفر له إلى انسلاخ المحرم».

شاهده من حديث أبي هريرة رضي الله عنه:
أخرجه البزار في "المسند" (رقم الحديث: 9726، 135/17، ط: مكتبة العلوم و الحكم)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يُغْفَرُ لِلْحَاجِّ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ».
وقال البزار: وهذا الحديث لا نعلم رواه عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرة إلا شريك، ولا عن شريك إلا حسين ب محمد، ولم نسمعه إلا من إبراهيم بن سعيد. وأورده الهيثمي في «المجمع» 483/3 (5287) كتاب الحج، باب دعاء الحجاج والعمار، وقال: رواه البزار، والطبراني في «الصغير»، وفيه شريك بن عبد الله النخعي، وهو ثقة، وفيه كلام، وبقية رجاله رجال الصحيح.

وأخرجه ابن خزيمة في "صحيحه" (كتاب المناسك، باب استحباب دعاء الحاج إذ النبي ﷺ قد استغفر لهم و لمن استغفروا له، رقم الحديث: 2516، 132/4، ط: المكتب الإسلامي– بيروت) من طريق شريك، به، ولفظه: «اللَّهُمَّ اغْفِر لِلْحُجَّاجِ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ».

وأخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط" (رقم الحديث: 8594، 266/8، ط: دار الحرمين– القاهرة)، وفي "المعجم الصغير" رقم الحديث: 1061، ص: 383، ط: مؤسسة الكتب الثقافية)

وأخرجه الحاكم في "المستدرك" (كتاب المناسك، رقم الحديث: 1612، 609/1، ط: دار الكتب العلمية) ، من طريق شريك، به، كلفظ ابن خزيمة، وقال: هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. ووافقه الذهبي في «التلخيص». والحديث ذكره المنذري في «الترغيب» 108/2، وقال: في إسناده شريك، ولم يخرج له مسلم إلا في المتابعات.

وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" (كتاب الحج، باب الدعاء للحاج و دعاء الحاج، رقم الحديث: 10381، 428/5، ط: دار الكتب العلمية)
وفي "شعب الإيمان" (باب في المناسك، فضل الحج و العمرة، رقم الحديث: 3817، 20/6، ط: مكتبة الرشد)

شاهده من حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما:
مسند أحمد: (رقم الحديث: 5371، 271/9، ط: مؤسسة الرسالة)

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: "إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَصَافِحْهُ، وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ، فَإِنَّه مَغْفُورٌ لَهُ ".
وأورده الهيثمي في "المجمع" 3 /691 (5927) كتاب الحج/ باب تلقي الحاج وطلب الدعاء منه، وقال: رواه أحمد, وفيه محمد بن البيلماني، وهو ضعيف

شاهده من حديث مجاهد بن جبر المكي رحمه الله:
مصنف ابن أبي شيبة (29/8 (12801) كتاب الحج، ما قالوا في ثواب الحج، مرسلًا ، قال: حدثنا شريك، عن جابر، عن مجاهد، أن النبي ﷺ قال: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ»، قال الحافظ ابن حجر كما في «الفتوحات الربانية» 177/5: هذا حديث مرسل، وجابر هو الجعفي، لكن يكتب حديثه في المتابعات.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالإفتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 192
hajj karne k bad haji ki dua e maghfirat rabi ul awal tak qabol hoti hay. is bare mein ahadees ki tehqeeq wa takhreej.

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.