عنوان: مسافروں کو شراب مہیا کرنے والی ایئر لائن کمپنی یا ہوٹل میں کام کرنے اور جیلاٹین بنانے والی کمپنی میں ملازمت کا حکم(9936-No)

سوال: ١) کیا سعودیہ میں ایسے ہوٹل چین کے لیے کام کرنا جائز ہے جو سعودیہ میں تو اپنے صارفین کو الکوحل کے مشروبات فروخت نہیں کرتی، لیکن بین الاقوامی سطح پر وہ لوگ اپنے صارفین کو الکوحل کے مشروبات فروخت کرتے ہیں؟
٢) کیا برطانیہ میں ایسی کمپنی کے لیے کام کرنا جائز ہے جو غیر نباتاتی حرام جیلیٹن سے مصنوعات تیار اور فروخت کر رہی ہے؟
٣)کیا سعودیہ میں ان ایئر لائنز کے لیے دفتری کام کرنا جائز ہے جو اپنے مسافروں کو ہوائی جہاز کے سعودی فضائی حدود سے نکلنے کے بعد الکوحل سے بنی مشروبات پیش کرتی ہیں اور کیا برطانیہ میں اسی ایئرلائنز کے لیے دفتری کام کرنا جائز ہے جہاں اس کے مسافروں کو الکوحل سے بنی مشروبات پیش کرنا پالیسی میں ہے؟

جواب: 1-3) ایسی ایئر لائن کمپنیاں یا ہوٹلز جو مسافروں کو شراب پیش کرتے ہوں، ان کے آفس میں کام کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کام جائز ہو اور شراب کی نقل وحمل اور اس کا حساب کتاب وغیرہ اس میں شامل نہ ہو۔ البتہ اگر اس کے متبادل ایسی جگہ ملازمت مل جائے، جہاں ایسے غیر شرعی سرگرمیاں نہ ہوں تو وہاں ملازمت کی کوشش کرنی چاہیے۔
2) واضح رہے کہ نباتات کے علاوہ اگر حلال جانور کو شرعی طریقہ سے ذبح کرکے اس سے جیلاٹین حاصل کی جائے تو وہ بھی حلال ہے، لہذا اگر کمپنی حلال اور حرام دونوں طرح کی جیلاٹین بناتی ہو تو اس میں جائز ملازمت کرنے کی فی نفسہ گنجائش ہے، بشرطیکہ ان کی غالب آمدنی حلال ہو، البتہ اگر کسی اور جگہ (جائز کاروبار کرنے والی کمپنی میں) کام کا موقع ہو تو وہاں کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔
لیکن جو کمپنی صرف حرام جیلاٹین بناتی ہو تو ایسی کمپنی میں کوئی جائز ملازمت کرنا اگرچہ بذات خود جائز ہے، لیکن اس کام کی تنخواہ چونکہ کمپنی اپنی حرام آمدنی سے دے رہی ہوگی، اس لئے ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا شرعا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۖ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ o

التفسیر المظهری: (48/3)
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ یعنی لا تعاونوا علی ارتکاب المنهیات، ولا علی الظلم۔

سنن الترمذی: (ص: 242، ط: رشیدیة)
عَنْ اَنَسٍؓ قَالَ لَعْنَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْخَمْرِ عَشَرَۃً، عَاصِرَہَا وَ مُعْتَصِرَہَا وَ شَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَ الْمَحْمُوْلَۃَ اِلَیْہِ وَسَاقِیَہَا وَبَائِعِہَا، وَ اٰکلَ ثَمَنِہَا، وَالْمُشْتَریَ لَہَا، وَ الْمُشْتَریٰ لَہٗ

فقه البیوع: (1056/2، ط: مکتبة معارف القرآن)
اما الفنادق و المطاعم و الخطوط الجویة التی تباع فيها الخمور و الاشیاء المحرمة فالاحسن لمسلم متدین ان یجتنب عن التعامل معها مهما وجد لذلك سبیلا و ذلك لئلا یكون منه تشجیع لمن یتعاطون المحرمات و لیظهر نفرته من ذلك .... أما قبول الوظائف فی مثل خذہ الفنادق و المطاعم فان کانت الوظیفة متمحضة لخدمة مباحة و تجری علی راتبها حکم المال الحلال، و ان کانت متمحضة للحرام مثل بیع الخمر فهی حرام و راتبها حرام.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 660 Nov 15, 2022
musafiro / musafiron ko sharab muhaya karne wali air line company ya hotel / hotal me / mein kaam karne or jelatain

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.