عنوان: شوہر کا عدالت میں حاضر نہ ہونے کی صورت میں فسخ نکاح/ مطلقہ اور لڑکے کے نان نفقہ کا حکم (16964-No)

سوال: میرا نام فاطمہ زوجہ محمد اصف ہے، میری شادی کو عرصہ نو سال ہو چکا ہے، میرا ایک بیٹا ہے جس کی تقریباً عمر ساڑھے سات یا پونے اٹھ سال ہے، میرا شوہر شادی کے شروع دن سے ہی میرے کردار پر شک کرتا ہے، ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں، اس کے گھر میں اس کے بڑے بھتیجے اور بھائی سب فیملیاں اکٹھی ہم لوگ اکٹھے رہتے ہیں، میرا شوہر نے اس شک کی بنا پر اس نے مجھ سے دو بار قران پاک اٹھوایا ہے اور مجھے ایک بار ڈی این اے ٹیسٹ کروانے تک لے کے چلا گیا ہے اور وہ شخص سارا دن میری چوکیداری کے لیے گھر میں بیٹھا رہتا ہے، کوئی کام کاج نہیں کرتا ہے، نہ مجھے کوئی نان نفقہ دیتا ہے اور نہ میرے بچے کا خرچہ پورا کرتا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانا پینا سب اکٹھا تھا اس کے بھائی وغیرہ خدا ترسی کے طور پر مجھے اور میرے بچے کو مالی طور پر سپورٹ کرتے تھے جو کہ اس کو تب بھی برا لگتا تھا۔
اب ہمارے حالات اس طرح کے ہو گئے ہیں کہ میں اپنے والدین کے گھر میں موجود ہوں اور اپنے بچے اور اپنے پیٹ پالنے کے لیے میں ایک پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کر رہی ہوں، اس دوران یہ مجھے ہر وقت یہ کہتا رہتا ہے کہ میں دوسری شادی کر لوں گا، دوسری شادی کر لوں گا اب جب میں اسے نوکری کرنے کا کہتی ہوں یا اپنا نان نفقہ اور بچے کا خرچہ اٹھانے کا کہتی ہوں تو یہ اس کی حامی نہیں بھرتا، بلکہ نفسیاتی مریض بنا بیٹھا ہے اور یہ کہتا ہے کہ رہنا ہے تو اسی طرح رہو، وہ نہ مجھے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع اور نان نفقے کی ذمہ داری بھی نہیں لے رہا تو اب مجھے ٓپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
سوال (۱)میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں خلع کے لیے عدالت سے رجوع کروں؟
سوال (۲) کیا میں اپنے اور اپنے بچے کی کفالتی اخراجات کا مطالبہ کروں؟
سوال(۳) کیا عدالتی تنسیخ نکاح کو شوہر کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کی صورت میں شرعی حیثیت حاصل ہوگی اور مجھے دوسری جگہ نکاح کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی یا نہیں؟
سوال (۴) میرا بچہ میرے پاس ہے، اس کا خرچہ پانی میں پورا کر رہی ہوں تو مجھے کہتا ہے کہ اگر تم کر رہی ہو تو یہ احسان نہیں ہے لیکن باپ تو میں ہی ہوں کچھ بھی کر لو۔ اب مجھے اس بارے میں بھی بتایا جائے کہ کیا بچے کا نان نفقہ پورا کرنا ماں کی ذمہ داری ہے یا باپ کی ذمہ داری ہے اور یہ کس صورت میں اس سے یہ خرچہ نکلواؤں؟ شریعت اس کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟
برائے مہربانی مجھے ان سوالات کے جوابات دیجیے۔ جزاک اللہ

جواب: (١) محترمہ آپ کے اس سوال کا جواب دارالافتاء سے جاری ہوچکا ہے، برائے مہربانی آپ یہ لنک کھول کر اس کا دوبارہ سے مطالعہ کریں۔
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=15769
(٢) سوال میں ذکر کرد تفصیلات اگر واقعتا درست ہیں تو عدالت سے شرعی طریقے کے مطابق نکاح فسخ کرانے کے بعد شوہر کے ذمے اپنی بیوی کی عدت کا نان نفقہ واجب ہوگا، جس کے مطالبے کا عورت کو حق حاصل ہوگا، بشرطیکہ عورت عدت شوہر کے گھر میں گزارے، البتہ اگر شوہر اسے اپنے گھر آنے نہ دے یا شوہر ظالم اور فاسق ہو اور اس کے گھر عدت گزارنے میں اس سے ظلم یا ہمبستری کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں عورت اپنے والدین کے ہاں عدت گزار سکتی ہے۔
(٣) اگر شوہر کو معلوم ہو کہ عدالت میں میرے خلاف نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے کیس چل رہا ہے اور وہ عدالتی نوٹس ملنے کے باوجود جان بوجھ کر عدالت میں حاضر نہ ہوتا ہو اور نہ ہی کسی وکیل کے ذریعے اپنا دفاع کرتا ہو تو اس سے شوہر کا متعنت ہونا ثابت ہوگا اور یہ اس کی طرف سے نکول یعنی قسم سے انکار سمجھا جائے گا، لہذا اگر ایسی صورت میں عدالت نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر نکاح فسخ کردے تو شرعاً یہ فسخ نکاح معتبر ہوگا اور عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ (کذا فی تبویب فتاوی دارالعلوم کراچی، فتویٰ نمبر: ٢١/١٩٣٧)
(٤) نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ کے ذمہ لازم ہے، اگر باپ بچے کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو تو بذریعہ عدالت بھی اس پر بچے کا نان نفقہ بقدرِ کفایت مقرر کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الهندية: (560/1، 561، ط: دار الفكر)
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة.
وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد.

الدر المختار مع رد المحتار: (609/3، ط: دار الفكر)
(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة) إن طالت المدة،
(قوله والفرقة بلا معصية) أي من قبلها، فلو كاتب بمعصيتهما فليس لها سوى السكنى كما يأتي. قال في البحر: فالحاصل أن الفرقة إما من قبله أو من قبلها، فلو من قبله فلها النفقة مطلقا سواء كانت بمعصية أو لا طلاقا أو فسخا، وإن كانت من قبلها فإن كانت بمعصية فلا نفقة لها ولها السكنى في جميع الصور. اه ملخصا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 113 May 17, 2024
shohar ka adalat mein hazir na hone ki surat mein faskh fasakh nikah / mutlaqa or larke ke nan nufqah ka hokom hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.