سوال:
مفتی صاحب! دورانِ نماز امام صاحب سے قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے غلطی ہوجانے پر مقتدی لقمہ دے دے اور امام لقمہ لے کر قراءت صحیح کرلے تو کیا اس لقمہ لینے پر امام اور مقتدی پر سجدہ سہو لازم ہوجائے گا؟
جواب: واضح رہے کہ اگر امام دورانِ نماز قراءت میں غلطی کررہا ہو تو مقتدی کا امام کو لقمہ دینا جائز ہے اور اس لقمہ دینے سے امام اور مقتدی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔
باقی امام کو کب لقمہ دینا چاہیے اور کب نہیں؟ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ مقتدی کے لیے امام کو لقمہ دینے (غلطی بتانے) میں جلدی کرنا مکروہ ہے، اسی طرح امام کے لیے مقتدی کی رہنمائی اور لقمہ کا انتظار کرنا بھی مکروہ ہے، ایسی صورت میں امام کو چاہیے کہ وہ کسی اور سورت سے ضروری قرأت کر لے یا کوئی اور سورت پڑھ لے یا اگر واجب قرأت کی مقدار پڑھ لی ہو، تو رکوع کرلے، اسی طرح مقتدیوں کو بھی چاہیے کہ جب تک لقمہ دینے کی شدید ضرورت نہ ہو، امام کو لقمہ نہ دیا کریں اور شدید ضرورت سے مراد یہ ہے کہ مثلاً امام غلط پڑھ کر آگے بڑھنا چاہتا ہے یا رکوع بھی نہیں کررہا اور خاموش کھڑا ہے، تو اس صورت میں لقمہ دے دیا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهندیة: (99/1، ط: دار الفکر)
والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح، هكذا في الكافي.
ويكره للمقتدي أن يفتح على إمامه من ساعته لجواز أن يتذكر من ساعته فيصير قارئا خلف الإمام من غير حاجة. كذا في محيط السرخسي ولا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه وإنه مكروه بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة وإلا ينتقل إلى آية أخرى. كذا في الكافي وتفسير الإلجاء أن يردد الآية أو يقف ساكتا. كذا في النهاية.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی