resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کفریہ الفاظ پر مشتمل گانے لا علمی میں گانے کا حکم

(42036-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا سوال ہے کہ کچھ گانے ایسے ہیں جن میں کفریہ الفاظ ہیں اور کچھ نعتیں بھی ایسی ہیں جن کے اشعار میں شرک ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان الفاظوں یا اشعار کو انجانے میں گا دے یا پڑھ لے، انجانے کا مطلب ہے کہ اسے یہ علم نہ ہو کہ یہ الفاظ کفریہ ہیں اور نہ ان الفاظ کے مطلب اور مفہوم کا علم ہو اور نہ کفر کی کوئی نیت یا ارادہ ہو تو کیا ایسی صورت میں وہ شخص کافر ہو جائے گا؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً کوئی شخص ایسے اشعار انجانے میں پڑھ دے، جسے ان اشعار کا مطلب اور مفہوم معلوم نہ ہو، اور نہ ہی کفر کی نیت ہو تو اس سے وہ شخص کافر نہیں ہوگا، تاہم اس پر لازم ہے کہ اس سے توبہ واستغفار کرے، اور آئندہ ایسے گانوں اور اشعار کو گنگنانے سے سخت اجتناب کرے جن کے معانی ومفاہیم بُرے ہوں، یا ان کا معانی معلوم نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (5/ 134، ط: دار الكتاب الإسلامي)*
«والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها وأما مسألة تكفير أهل البدع المذكورة في الفتاوى فقد تركتها عمدا لأن محلها أصول الدين وقد أوضحها المحقق في المسايرة.»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs