سوال:
میرے ذہن میں کئی سوالات ہیں جن کے لیے مجھے شریعت کی روشنی میں جوابات درکار ہیں۔ براہِ کرم مختلف ائمہ کے نقطۂ نظر بھی بتائیں، کیونکہ میں کسی ایک رائے پر سختی سے قائم نہیں رہنا چاہتی بلکہ تمام ممکنہ آراء کو سمجھنا چاہتی ہوں۔
1) مجھے حیض کے دوران خلع ملا، اسی رات بعد میں میرا حیض ختم ہوگیا، شریعت کے مطابق خلع کے بعد عدت تین ماہواری کے چکروں کی ہے تو کیا اب میری دو ماہواریاں باقی ہیں یا مجھے مزید تین ماہواریاں مکمل کرنی ہوں گی؟
2) میں جلد کے کچھ ایسے علاج کروا رہی ہوں جن کے لیے مجھے اپنا ستر ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کے سامنے ظاہر کرنا پڑتا ہے تو کیا عدت کے دوران ایسا کرنا جائز ہے؟ براہِ کرم یہ بھی مدِنظر رہے کہ یہ علاج میری ذاتی پسند کے لیے ہے اور میرا ستر کسی غیر محرم کے سامنے ظاہر نہیں ہوتا۔
3) عدت کے دوران مجھے اپنے کام کی جگہ پر کس طرح رہنا چاہیے؟ یہ بتانا ضروری ہے کہ میں اپنے کام کی جگہ کے لیے سفر نہیں کرتی بلکہ اس وقت وہیں رہ رہی ہوں، میں اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں، اور جس عمارت میں رہتی ہوں وہ اس ہاسٹل سے الگ اور نسبتاً الگ تھلگ ہے جہاں دوسرے مرد اسٹاف رہتے ہیں، اس لیے عملی طور پر عدت کے دوران یہی جگہ میرا گھر ہوگی۔
مزید یہ کہ میں ڈھیلے کپڑے پہنتی ہوں اور سر اور بازو ڈھانپ کر رکھتی ہوں، مجھے چہرہ ڈھانپنے میں کچھ مشکل پیش آ رہی ہے، لیکن میں بناؤ سنگھار نہیں کرتی۔ میں ایک ٹیچر ہوں اور چونکہ وہاں دوسرے مرد اسٹاف بھی موجود ہیں، اس لیے میں ان سے صرف ضرورت کے مطابق اور مختصر بات کرتی ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں چہرہ نہ ڈھانپوں، لیکن سادہ لباس میں رہوں اور بناؤ سنگھار نہ کروں تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب: فقہ حنفی کے مطابق آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) عدت کے اندر تین مکمل حیض گزارنا ضروری ہے، جس حیض میں طلاق واقع ہوتی ہے وہ چونکہ مکمل نہیں ہوتا اس لیے اس کے بعد مزید تین حیض شمار کرنے ہوتے ہیں، پوچھی گئی صورت جس حیض میں آپ کو شوہر کی طرف سے خلع ملا ہے اس حیض کے بعد مزید تین حیض گزرنے پر آپ کی عدت مکمل ہوگی۔
2) عام حالات میں عورت کے لیے عدت میں گھر سے باہر جانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر شدید مجبوری ہو، مثلاً: عورت شدید بیمار ہے، ڈاکٹر کے مشورے اور معائنہ کے بغیر صحت بہتر نہیں ہو سکتی اور گھر پر ڈاکٹر بلانے کی سہولت بھی موجود نہیں ہے تو ایسی صورت میں خاتون عدت کے دوران ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے، لہذا اگر آپ کا مرض مذکورہ نوعیت کا ہے اور گھر پر ڈاکٹر بلانے کی سہولت موجود نہیں ہے تو آپ دن کے اوقات میں ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہیں، اسی طرح مجبوری کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر کے سامنے اپنا ستر بقدرِ ضرورت کھول سکتی ہیں۔
3)طلاق کی عدت میں عورت کا خرچہ اور رہائش شرعاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اس لیے طلاق کی عدت کے دوران عورت کے لیے ملازمت کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلنا منع ہے۔ آپ کو چاہیے تھا کہ شوہر کے گھر پر عدت گزارتیں، اسی طرح آپ کے لیے دورانِ عدت ملازمت جاری رکھنا بھی درست نہیں ہے، آپ کو چاہیے کہ ملازمت سے چھٹی لے کر شریعت کے مطابق اپنی عدت مکمل کریں۔
خواتین کے ملازمت کے حوالے دیگر سوالات کے جواب کے لیے ہمارے اس تفصیلی فتویٰ کا مطالعہ فرمائیں(https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=2570)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیة: (527/1، ط: دارالفکر)
إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولاتحتسب هذه الحيضة من العدة، كذا في الظهيرية.
الدر المختار: (453/3، ط: دار الفکر)
إلا نفقة العدۃ وسکناها فلا یسقطان إلا إذا نص علیها فتسقط النفقة.
و فیه ایضاً: (536/3، ط: دار الفکر)
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.
الدر المختار مع رد المحتار: (535/3، ط: دار الفکر)
(ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج معراج (لو حرة) أو أمة مبوأة ولو من فاسد (مكلفة من بيتها أصلا) لا ليلا ولا نهارا ولا إلى صحن دار فيها منازل لغيره ولو بإذنه لأنه حق الله تعالى.
(قوله: من بيتها) متعلق بقوله ولا تخرج، والمراد به ما يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت هداية، سواء كان مملوكا للزوج، أو غيره، حتى لو كان غائبا، وهي في دار بأجرة قادرة على دفعها فليس لها أن تخرج بل تدفع وترجع إن كان بإذن الحاكم بحر وزيلعي.
و فیه ایضاً: (370/6، ط: دار الفکر)
إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء، لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی