عنوان: سفر میں سنتیں پڑھنے کا حکم   (102069-No)

سوال: السلام عليكم، شیخ ! ایک سوال پیش خدمت کرنا تھا، سفر میں جو قصر نمازیں پڑھتے ہیں، اس میں سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ براہ کرم اصلاح فرمادیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ سفر میں اگر جلدی نہ ہو اور موقع ہو یا پھر حالت سفر میں کسی مقام پر ٹھہرے ہوئے ہوں تو سنتیں پڑھنی چاہییں، البتہ اگر نہیں پڑھیں تو گنہگار نہیں ہوگا، اور اگر سفر میں جلدی ہو یا موقع نہیں ہو، جیسے ٹرین یا پلیٹ فارم پر ہے تو فجر کے علاوہ باقی نمازوں کی سنتیں چھوڑنے کی گنجائش ہے۔

کذا فی الدر مع الرد:

(ویاتی) المسافر (بالسنن) ان کان (فی حال امن وقرار والا) بان کان فی خوف وفرار (لا) یاتی بھا ھو المختار لانہ ترک لعذر، تجنیس، قیل الاسنۃ الفجر۔
وفی الشامیۃ تحتہ: (قولہ ویاتی المسافر بالسنن) ای الرواتب… (قولہ ھو المختار) وقیل الافضل الترک ترخیصا، وقیل الفعل تقربا۔ وقال الھندوانی: الفعل حال النزول والترک حال السیر… قلت: والظاھران مافی المتن ھو ھذا وان المراد بالامن والقرار النزول وبالخوف والفرار السیر لکن قدمنا فی فصل القراء ۃ أنہ عبر عن الفرار بالعجلۃ لانھا فی السفر تکون غالبا من الخوف تامل۔
(ج2،ص131)

(مزید سوال و جواب کیلئے وزٹ کریں)
http://AlikhlasOnline.com

نماز میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com