عنوان: مسبوق کا سجدہ سہو باقی ہونے کی صورت میں دونوں طرف سلام پھیر دینا(103875-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! اگر ایک شخص چار فرض کی جماعت میں دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہو، اور غلطی سے امام کے ساتھ دونوں سلام پھیر لے، اور دوسرا سلام پھیرتے ہی یاد آنے پر کھڑے ہو کر بقیہ نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے، تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی یا دوبارہ لوٹانی ہو گی؟

جواب: صورت مسئولہ میں بھولے سے سلام پھیر دینے کے بعد نماز کے منافی کوئی کام نہ کیا ہو اور سینہ قبلہ سے نہ پھیرا ھو، بلکہ اسی حالت میں بیٹھا ہوا ہو اور آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیا ہو تو نماز ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:
(سلام من عليه سجود سهو يخرجه) من الصلاة خروجا (موقوفا) إن سجد عاد إليها وإلا لا ۔۔۔۔۔ويسجد للسهو ولو مع سلامه) ناويا (للقطع) لأن نية تغيير المشروع لغو (ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم) لبطلان التحريمة، ولو نسي السهو أو سجدة صلبية أو تلاوية يلزمه ذلك ما دام في المسجد.
(باب سجودالسہود، ج٢، ص٩١، سعید، کراچی )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

نماز میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com