عنوان: سورہ نور آیت نمبر 35 کی تشریح و تفسیر (100876-No)

سوال: برائے مہربانی سورہ نور کی آیت نمبر 35 کی وضاحت فرما دیں جزاك الله

جواب: اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
ترجمہ:
 اللہ تعالیٰ روشن کرنے والا ہے آسمان کا اور زمین کا اور اس کے نور کی مثال جیسے طاقچہ ہے اس طاقچے میں چراغ ہے چراغ شیشے میں ہے اور وہ شیشہ کوکب گویا کہ وہ ایک ستارہ ہے چمکتا ہوا، وہ چراغ جلایاجاتا ہے برکت والے درخت کے تیل سے ، جو زیتون کا درخت ہے ، نہ مشرق کی سمت ہے اور نہ مغرب کی سمت ہے قریب ہے کہ اس کاتیل روشن ہوجائے خود بخود اگرچہ نہ پہنچے اس کو آگ، روشنی پر روشنی ہے، ہدایت ہے اللہ تعالیٰ اپنے نور سے جس کو چاہے اور اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے مثالیں لوگوں کے لی اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔ 
تفسیر :
اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے ایک بات بیان فرمائی ہے۔
پہلی بات:
تو یہ ہے کہ '' اللہ نور السموات والارض'' اللہ تعالیٰ ہی روشن کرنیو الا ہے آسمانوں اور زمین کا، سورج طلوع ہوتا ہے روشنی ہوتی ہے چاند طلوع ہوتا ہے توچاندنی ہوتی ہے، چاندنی کے غروب ہونے کے بعد ستارے بھی اپنے اپنے انداز سے روشنی دیتے ہیں، توروشنی کے ظاہری اسباب سب اللہ تعالیٰ نے پیدافرمائے ہیں ، جیسے ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم
حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے کچھ کمزور ہے لیکن مفہوم صحیح ہے میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پاؤ گے یعنی میرے صحابہ کی مثال آسمان کے ستاروں کے مانند ہے ستاروں تم اپنے اپنے انداز سے روشنی حاصل کرتے ہو میرے صحابہ سے بھی ہدایت کی روشنی حاصل کرو اور جیسے ستارے آسمان پر ہیں بلند ہیں اور ان میں روشنی ہے اسی طرح سمجھو کہ میرے صحابہ کی شان بھی بہت بلند ہے اور ان میں نور نبوت کی روشنی ہے وہ نور نبوت سے منور ہیں ان سے اپنی اپنی استعداد کے مطابق تمہیں روشنی حاصل کرنی چاہیے۔
دوسری بات :
اللہ تعالیٰ نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد کی مثال بیان فرمائی ہے اور مثال سے سمجھایا ہے
''مثل نورہ کمشکوۃ''
اس کے نور کی مثال ایسے ہی ہے جیسے طاقچہ ہے ،
''فیھامصباح''
اس طاقچے میں چراغ ہے۔
''المصباح فی زجاجہ''
چراغ شیشے میں ہے ،
''الزجاجہ کانھا، کوکب دری''
وہ شیشہ گویا کہ چمکتا
ہواستارہ ہے ۔
''یوقد''
وہ چراغ جلایاجاتا ہے ،
''من شجرۃ مبارکہ''
مبارک درخت کے تیل سے
''زیتونۃ''
جو زیتون کا درخت ہے ۔
''لاشرقیہ ولاغربیہ''
وہ مشرق کی سمت ہے اور نہ مغرب کی سمت ہے۔
''یکادزیتھا''
قریب ہے کہ اس کاتیل ، یضی، روشن ہوجائے خود بخود ،
''ولولم تمسہ نار''
اور اگرچہ اس کو آگ نہ پہنچے
'' نور علی نور''
روشنی پر روشنی ہے۔
مثال کے طور پر ایک دیوار ہے اس میں ایک طاقچہ ہے اور اس طاقچے میں ایک چراغ رکھا ہوا ہے پھر وہ چراغ شیشے میں ہے اور وہ شیشہ بڑا صاف ہے کیونکہ لالٹین کاشیشہ صاف نہ ہو تو روشنی باہر نہیں آتی ، وہ شیشہ ایسے صاف ہے جیسے آسمان کے ستارے چمکتے ہیں ۔ ''کانھا کوکب دری''
گویا کہ وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے اور اس چراغ میں زیتون کاتیل ڈالا گیا ہو کیونکہ زیتون کاتیل تمام تیلوں میں بڑا صاف ہوتا ہے ، اس کا دھواں نہیں ہوتا اور وہ زیتون کے ایسے درخت سے حاصل کیا گیا ہے کہ وہ نہ بالکل مشرق کی سمت میں اور نہ مغرب کی سمت میں، عین سینڑ میں ہے کہ پہلے پہر کی دھوپ بھی اس کو لگتی ہے اور پچھلے پہر کی دھوپ بھی لگتی ہے ، ایسے درخت سے حاصل کیا گیا ، اس چراغ میں ایسے زیتون کاتیل ہو تو وہ خود بخود روشن ہونے کے لے تیار ہے، آگ اس کونہ بھی پہنچے، لیکن جب آگ اس کے قریب ہوگئی تو وہ فورا روشن ہوجائے گا۔
''نور علی نور''
ایک تو خود روشن ہونے کو تیار ہے پھر آگ مل گئی۔
اسی طرح انسان کا سارابدن ایک دیوار ہے، اس میں جو سینہ ہے یہ طاقچہ ہے اس میں دل رکھا ہوا ہے یہ چراغ ہے اور دل میں جو رب تعالیٰ نے حق کو قبول کرنے اور ہدایت کو قبول کرنے کی جو صلاحیت اور استعداد رکھی ہے وہ زیتون کاتیل سمجھو کہ اگر مبلغ نہ بھی پہنچے تو فطرت خود بخود ہدایت قبول کرنے کو تیار ہے اور اگر مبلغ پہنچے ، اس کی آواز پہنچے تو نور علی نور ہے، وہ دل کا چراغ روشن ہوجاتا ہے ، ''یھدی اللہ لنورہ من یشاء'' ہدایت دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لیے جس کو چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے ، ''ویضرب اللہ الامثال للناس،'' اور بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ مثالیں لوگوں کو سمجھانے کے لیے ۔
''واللہ بکل شئی علیم''
اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جاننے والا ہے ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 1446
soorah/surah noor ayat/ayah number/no. 35 ki tashreeh aur tafseer, the tafseer and tashreeh of surah noor ayah number 35

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com